Express News:
2026-07-24@01:11:11 GMT

گھر گھر کی ایک جیسی معاشی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

معاشی اعتبار سے ملک ایک مشکل وقت سے گزر رہا ہے ۔اگرچہ حکمران طبقات اور عام آدمی کی سوچ میں معاشی ترقی کے تناظر میںایک بڑا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ نئی ابھرتی ہوئی لوئر مڈل اور مڈل کلاس کی معاشی ترقی کے سفر میں ان طبقات کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

یہ لوگ معاشی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات میں اپنے معیار زندگی کی بہتری میں نئے معاشی امکانات کو پیدا کریں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ پڑھی لکھی مڈل کلاس ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ روزگار کے مواقع کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ایک مسئلہ نئی نسل کا ہے جو اپنے کندھوں پر ڈگری کا بوجھ لے کر اپنے لیے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے۔اول، تو اسے نئے روزگار کے مواقع نہیں مل رہے اور اگر کہیں ملتے ہیں تو اس میں تنخواہیں اس حد تک کم ہیں جو حکومت کی کم سے کم طے کردہ تنخواہ کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتیں۔ یہ صورتحال نئی نسل میں معاشی استحصال کی مختلف نوعیت کی شکلوں کو نمایاں کرتی ہے ۔

روزانہ کی بنیاد پر ہر والدین اور ہر گھر کی کہانی کا ایک ہی کردار ملتا ہے جو معاشی بدحالی کی تصویر پیش کرتا ہے یا معاشی مواقع کے نہ ہونے کی وجہ سے خود کو بوجھ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔اس نئی نسل کا رونا محض اپنی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کا رونا خود ان کے خاندان کا بھی ہے جس کی کفالت میں انھیں ایک بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرنا ہے ۔مگر وہ کیا کریں اور کہاں جائیں اس کا کوئی معاشی راستہ ان کو نہیں مل رہا ۔جتنی تعداد میں ہم سالانہ بنیاد پر گریجویٹ یا ماسٹرز ڈگری پیدا کر رہے ہیں اتنی تعداد میں سرکاری اور غیر سرکاری یعنی نجی شعبہ میں روزگار پیدا نہیں ہو رہے تو اس ناکامی کی ذمے داری کس پر ڈالی جائے گی اور کیونکر حکومت سمیت نجی شعبہ اپنی ناکامی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ نئی نسل کے جو پڑھے لکھے لوگ ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں ان کے سامنے جہاں روزگار کی تلاش ہے تو دوسری طرف ملکی سطح پر معاشی بدحالی کی وہ کیفیت بھی ہے جو انھیں نظر آتی ہے اور ان کے پاس باہر جانے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہماری نئی نسل کے پاس اس وقت ڈگری تو ہے مگر ان کے پاس وہ مہارتیں نہیں ہیں جو ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکے ۔اگر یہ منطق مان لی جائے تو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ بھی حکومتی تعلیمی پالیسی کی ناکامی ہے جہاں جدیدیت کی بنیاد پر تعلیم دینے کی بجائے ہم اسے روائتی تعلیم دے کر بے روزگاری کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔

ہمارے حکومتی معاشی ماہرین یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں یا اس اہم نقطہ کو جان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہیں کہ اوپر کی سطح کی معیشت کے مثبت اثرات اگر نچلی سطح پر عام لوگوں کی زندگی پر معاشی ترقی کے اثرات پیدا نہیں کرتے تو پھر اوپر کے بہتر معاشی اشاریے عام آدمی کا پیٹ نہیں بھرسکتے ۔اس طرز کی معاشی ترقی کے دعوے معاشی بدحالی سے دوچار افراد میں اور زیادہ منفی ردعمل پیدا کرتے ہیں ۔یہ حکومتی معاشی ماہرین اس نقطہ پر بھی غور نہیں کر رہے کہ لوگوں کی آمدنی اور اخراجات میں جو تفریق اور عدم توازن کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس کا پرسان حال کون ہوگا اور اس کی ذمے داری کس پر ڈالی جائے۔

یہ کہنا کہ اب حکومت کے پاس روزگار نہیں اور نئی نسل کو اب اپنے لیے خود روزگار پیدا کرنے ہیں یہ بھی خوش فہمی کی سیاست ہے ۔کیونکہ یہ بھی ممکن نہیں کہ سب لوگ کاروبار کریں یا سب کو خود روزگار تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات ہمیں کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ ملک میں نئی چھوٹی یا بڑی صنعتوں کو قائم کرنے میں کیونکر ناکام ہورہے ہیں یا کیونکر ملک میں غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری میں تسلسل کے ساتھ کمی واقع ہو رہی ہے مگر اس پر کوئی سوچنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔

بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کی بڑی تعداد میں نئی نسل جس میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں اور وہ پڑھے لکھے بھی ہیں تسلسل کے ساتھ حکمرانوں کے دل و دماغ پر دستک دے رہے ہیں یا ان کے دروازے کھٹکھٹا کر دہائی دے رہے ہیں تو اس ملک کا طاقت ور طبقہ ان نئی نسل کی آوازوں کو سننے کے لیے تیار نہیں ۔بلکہ بڑا المیہ یہ ہے کہ نئی نسل کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے ان پر مختلف نوعیت کے الزامات کی بنیاد پر ان کی کردار کشی یا ان کی جہالت کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ایک طرف پڑھے لکھے افراد اور دوسری طرف آدھی سے زیادہ آبادی جو بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہے اس کے مسائل تو بہت پیچھے چلے گئے ہیں ۔ڈیجیٹل لائزیشن کی باتیں تو بہت ہو رہی ہیں مگر نہ تو بنیادی ڈیجیٹل لٹریسی یا مہارتوں پر توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی نئی نسل کی رسائی کو ڈیجیٹل لائزیشن تک آسان بنانے کی بجائے اور زیادہ مشکل بنایا جارہا ہے ۔

آپ حکومت کے تمام معاشی ماہرین کو ایک میز پر بٹھا کر ان سے کہیں کہ وہ اگلے پانچ برس کے معاشی ایجنڈے کی وہ تصویر پیش کریں جس سے نئی نسل ان معاشی منصوبوں سے عملی طور پر فائدہ اٹھا سکے۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا اور ان معاشی ماہرین کی ساری گفتگو کا محور کمزور اور محروم طبقات کے مقابلے میں طاقت ور اشرافیہ کے معاشی مفادات اہم ہونگے اور یہ ساری منصوبہ بندی ان ہی طاقت ور افراد کے گرد ہی گھومے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں کو نہ صرف معاشی حالات پر تحفظات ہیں بلکہ اس سیاسی سوچ کو بھی نئی نسل چیلنج کررہی ہے جہا ں وہ حکومت کی ترجیحات میں خود کو بہت پیچھے کھڑا دیکھتے ہیں۔

پاکستان کا اصل مسئلہ محض معیشت کی ترقی اور بحالی یا اس کی مضبوطی کا نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں معیشت کو سیاست سے علیحدہ ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔یہ سیاست ہی ہوتی ہے جو طے کرتی ہے کہ اس حکومتی نظام میں ان کی ترجیحات عام آدمی کے لیے کیا ہوں گی یا وہ صرف طاقت ور طبقات کی نمائندگی کریں گے ۔یعنی وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی اور کس طبقہ کا زیادہ حصہ ہوگا اور کیسے وسائل اور مواقع کی اس جنگ میں عام آدمی کا حصہ زیادہ کیا جاسکتا ہے ۔اگر حکومت کا نظام طاقت ور طبقات کے ساتھ کھڑا ہوگا تو پھر اس نظام میں عام اور کمزور افراد کا مقدمہ کو ن لڑے گا۔

یہ جو سیاسی اور معاشی جنگ ہے وہ بنیادی طور پر طاقت ور اور کمزور طبقات کے درمیان ہی ہوتی ہے اور اس جنگ میں کمزور طبقات کو ترجیحی بنیادوں پر فوقیت دی جاتی ہے ۔لیکن ہماری کہانی مختلف ہے اور گھر گھر میں یا نئی نسل کے ہر فرد کو یہ درس دیا جارہا ہے کہ اگر آپ طاقت ور نہیں ہیں یا وسائل نہیں رکھتے تو اس ملک کی معاشی ترقی اور مواقع میں آپ کا حصہ وہ نہیں ہوسکتا جو خود آپ دیکھنا چاہتے ہیں ۔اسی سوچ کی وجہ سے ملک میں طبقاتی بنیادوں پر سیاسی اور معاشی جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے اور اسی بنیاد پر ہمیں معاشرے میں مختلف نوعیت کی تقسیم کے پہلو بھی نمایاں نظر آتے ہیں ۔بنیادی نقطہ یہ ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں لوگوں بالخصوص نئی نسل کی معاشی حیثیت کو بہتر بنانے میں ناکام ہو رہی ہیں اور ان کو مختلف اقدامات کی بنیاد پر خیراتی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو ان کی عزت نفس کو متاثر کرتا ہے ۔

جب تک حکومت کا نظام اور معاشی ماہرین روائتی اور فرسودہ خیالات یا طبقاتی بنیاد کو مستحکم کرکے معاشی ایجنڈے کو ترتیب دیتے رہیں گے تو بڑی معاشی ترقی کے نئے امکانات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔لوگوں کو کیسے معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے یا نئے روز گار پیدا کرنے ہیں یہ عمل جب تک ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہوگا تو ہم کیسے لوگوں کو معاشی دلدل سے باہر نکال سکیں گے۔لیکن اگر حکمرانوں کی معاشی ترقی خود ان کی ذات اور خاندان تک محدود ہوگی تو پھر عام لوگوں میں ان کے بارے میں منفی رجحان کا پیدا ہونا فطری ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی معاشی ترقی معاشی ترقی کے معاشی ماہرین مختلف نوعیت کی بنیاد پر نئی نسل کے ور طبقات کے مسائل کے ساتھ ہیں اور پیدا کر رہے ہیں نہیں ہو ہے اور کے لیے ہیں کہ کے پاس کا حصہ رہی ہے رہا ہے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف