امریکا میں نجی طیارہ ٹیک آف کے دوران تباہ‘ 8افراد سوار تھے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست مائن کے شہر بینگر میں نجی جیٹ طیارہ ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر 8افراد سوار تھے۔ حادثے میں زخمی ہونے والوں کی نوعیت اور تعداد کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بزنس جیٹ تھا۔ بینگر انٹرنیشنل ائرپورٹ کی انتظامیہ کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 45 منٹ پر ایمرجنسی ٹیموں نے فوری طور پر جائے حادثہ پر کارروائی شروع کر دی۔ ائرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیاں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں ۔ واقعے کے بعد ائرپورٹ کو رات بھر کے لیے بند کر دیا گیا اور ایک ایمرجنسی آپریشن سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ۔ واضح رہے کہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید برفانی طوفان جاری ہے۔ مائن میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہے اور ہلکی برف باری کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو چکی ہے۔ حادثے سے کچھ دیر قبل ائر ٹریفک کنٹرولرز اور پائلٹ کم حدِ نگاہ اور ڈی آئسنگ کے مسائل پر بات کر رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔