سیاسی ر ہنمائوں کا سانحہ گل پلازہ کی شفاف تحقیقات کیلیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260127-01-15
کراچی (رپورٹ‘ واجد حسین انصاری) سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ گل پلازہ کو سندھ حکومت اور شہری انتظامیہ کی بد انتظامی اور غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں حکومت کی غفلت کی وجہ سے کئی خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں لیکن حکومتی سطح پر کوئی موثر اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔ یہ سانحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے شہری زندگی اور عوام کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح نہیں بنا یا ہے۔ کراچی کی کمرشل عمارتوں اور عوامی مقامات پر با قاعدہ انسپیکشن، حفاظتی معیارات پر عمل درآمد اور ہنگامی صورت حال کے لیے واضح منصوبہ بندی لازمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنما سردار عبدالرحیم، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید، متحدہ کے پارلیمانی لیڈر افتخار عالم نے روزنامہ جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان نے کہا کہ حکومت کی نا اہلی اور غفلت کے باعث سانحہ گل پلازہ رونما ہوا۔ سندھ حکومت اور اس کے ادارے سنگین غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس سانحے کی تمام تر ذمے داری سندھ حکومت پر عاید ہوتی ہے، اب تک حکومتی سطح پر کسی نے اپنی ذمے داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سرپرستی میں قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو مسترد کرتا ہوں یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، اس سانحے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سانحے کے ذمے داروں کو سخت سزا دی جائے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نا اہلی سے بغیر منصوبہ بندی کے مخدوش عمارتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ان عمارتوں میں فائر سیفٹی کے کوئی انتظامات نہیں ہیں، ان عمارتوں میں ہنگامی صورتحال میں لوگوں کے باہر نکلنے کے راستے نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے گل پلازہ جیسے سانحات رونما ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے جانی و مالی نقصانات ہوتے ہیں۔ فاروق فرحان نے کہا کہ مستقبل میں گل پلازہ جیسے سانحات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے، فائر اسٹیشنوں، فائر برگیڈ گاڑیوں اور اسنارکل کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، شہر میں فائر برگیڈ کے نظام کو فعال اور موثر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور فائر برگیڈ کے عملے کو ضروری تربیت دی جائے۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یہ واقعہ سندھ حکومت اور شہری کی بدانتظامی اور غفلت کی بدترین مثال ہے، حکومتی نااہلی سے عوام مسلسل خطرات اور سانحات کا شکار ہو رہے ہیں، سانحہ گل پلازہ میں کئی خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں لیکن حکومتی سطح پر کوئی موثر اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورت حال کے لیے کراچی کی کمرشل عمارتوں سمیت عوامی مقامات پر باقاعدہ انسپیکشن، حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کے لیے واضح منصوبہ بندی لازمی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے نہ صرف جوڈیشل کمیشن کا قیام بلکہ غفلت کے مرتکب اداروں کو فوری طور پرقانون کے کٹھہڑے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے سانحہ گل پلازہ سے متعلق سندھ حکومت کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ابتدائی طور پر حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی رسپانس موثر ہوتا تو اس المناک حادثے میں اس قدر جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ سردار عبدالرحیم نے زور دیا کہ حکومت کی جانب سے صرف بیانات اور متاثرین کی امداد کے عارضی اقدامات ناکافی ہیں، حقیقی تحفظ کے لیے طویل المدتی اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ بڑا دلخراش ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا اور لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے، یہ سانحہ ہمارے بوسیدہ نظام کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حکومتی غفلت اور کوتاہی واضح نظر آتی ہے، اس سانحے پر غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے آئین و قانون پر من و عن عمل درآماد کیا جائے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں۔سندھ اسمبلی میں متحدہ کے پارلیمانی لیڈر افتخار عالم نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ کراچی میں ہونے والا یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں ماضی میں بھی اس قسم کے سانحات ہوتے رہے ہیں یہاں سوال یہ ہے کہ اس طرح کے سانحات میں حکومت اور اس کے ادارے کہاں ہوتے ہیں، حکومت کی گورننس کہیں نظر نہیں آتی، حکومت سندھ صرف تحقیقاتی کمیٹی بنا کر اپنی جان چھڑا لیتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے پارلیمانی لیڈر لیے جوڈیشل کمیشن سانحہ گل پلازہ تحقیقات کے لیے عمارتوں میں سندھ کے صدر سندھ حکومت حکومت اور نے کہا کہ کیا جائے کہ سانحہ حکومت کی رہے ہیں
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔