محکمہ خوراک سندھ کے گودام سے 65 کروڑوں مالیتی گندم خردبرد
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
جامشورو (نیوزڈیسک) علاقے بھولاری میں محکمہ خوراک کے گودام سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم غائب ہونے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ محکمہ خوراک نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو باضابطہ طور پر سفارش کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق گندم کی خردبرد کا انکشاف سیکریٹری محکمہ خوراک کی زیر صدارت اجلاس کے دوران ہوا،جہاں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نو جنوری کو 64 ہزار 483 گندم کے تھیلوں کی خردبرد کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق غائب ہونے والی گندم کی مجموعی مالیت 64 کروڑ 48 لاکھ 35 ہزارروپے بنتی ہے، تحقیقات میں مزید بتایا گیا کہ 18 جنوری کو صوبے بھر کے 66 گوداموں میں سے 52 گوداموں کی جانچ کی گئی ،جس کےدوران بھولاری گودام سےگندم غائب ہونے کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹ میں خردبرد میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ادھر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے رپورٹ کی روشنی میں رات گئے کارروائی کرتے ہوئے فوڈ انسپکٹر اللہ ڈنو کو گرفتار کر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔