لاہور؛ نجی ہوٹل میں آتشزدگی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ تیار، آگ لگنے کی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لاہور:
گلبرگ میں واقع نجی ہوٹل میں آتشزدگی سے متعلق ایل ڈی اے اور مختلف اداروں کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی جس میں مبینہ طور پر ہوٹل انتظامیہ نے قوانین کی خلاف ورزی کی۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہوٹل کے بی ون فلور پر بوائلر رکھا گیا تھا اور بوائلر کو ایل پی جی سلنڈر کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔ بوائلر سے مبینہ طور پر گیس لیک ہوئی اور ہوٹل میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ بوائلر سے گیس لیکج ہی تھی۔
ہوٹل میں ایئر کنڈیشنگ اور ہیٹنگ سسٹم کے لیے ’’ایچ وی اے سی سسٹم‘‘ استعمال کیا جا رہا تھا۔ ہوٹل کے فلور بی ون میں ایچ وی اے سی سسٹم لگا ہوا تھا تاہم ایچ وی اے سی سسٹم کو سوئی گیس کے ذریعے آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور ایل پی جی گیس سلنڈر کا استعمال کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے ایچ وی اے سسٹم کے سینسر خراب ہوئے اور گیس لیک ہوئی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ہوٹل کا فائر الارم سسٹم خودکار طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا، مینول فائر الارم چلانے کی وجہ سے ہوٹل میں مقیم شہریوں کو اطلاع میں تاخیر ہوئی۔
واضح رہے کہ ڈھائی ماہ پہلے سول ڈیفنس کی طرف سے نوٹس جاری کیا گیا تھا جسے انتظامیہ نے نذر انداز کیا۔ حکام کے مطابق واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایچ وی اے ہوٹل میں رہا تھا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔