کراچی تا کشمور پورا سندھ ڈاکوراج کے حوالے ہے‘نصراللہ چنا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصراللہ چنا نے کہا ہے کہ کراچی سے کشمور پورا سندھ ڈاکوراج کے حوالے ہے۔گزشتہ روزشکارپور میں ایک دوسرے اایس ایچ اوکا ڈاکوئوں کے ہاتھوں قتل صوبے میں امن وامان کے حکومتی دعوؤں کی نفی ہے۔ جیکب آباد اورسانگھڑ میں بچیوں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کے واقعات لاقانونیت واندھیرنگری کی انتہا کی نشاندہی کرتے ہیں۔عوام رات اورنہ ہی دن کومحفوظ ہیں۔ایسالگتا ہے سندھ امن انصاف اورقانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔اسلام کا عادلانہ نظام ہی دنیا کو امن اورانسانیت کومحفوظ و چین وسکون دے سکتا ہے۔جماعت اسلامی کا بدل دونظام کو سنواردو سندھ کو مہم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل کشمور کے ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ۔اجلاس میں بدل دو نظام مہم سمیت سالانہ منصوبہ بندی ودیگرتنظیمی امورپرغور کیا گیا۔انہوں نے مزید کہاکہ مرادعلی شاہ حکومت سندھ میں قیام امن اورشہریوں کی جان ومال کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی۔صوبائی دارالخلافہ کراچی میں تجارتی مرکزگل پلازہ وقعے نے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی 18سالہ کارکردگی عیاں کردی ہے۔پیٹرول گیس اورکالے سونے کی دولت سے مالامال سندھ کے عوام غربت اوربھوک وبدحالی کا شکار ہیں ۔بینظیرانکم سپوٹ پروگرام میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود غربت میں اضافہ ،تھرمیں بچے خوراک کی قلت سہولت کے فقدان کی وجہ سے مر رہے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔سندھ حکومت نے کرپشن اورچوربازاری میں ہی شہرت حاصل کی ۔نااہل وکرپٹ قیادت کی وجہ سے کرپشن اورڈاکورج سندھ کی پہچان بن گئے ہیں۔اس لیے نظام وقیادت کی تبدیلی سے ہی سندھ اورعوام کی قسمت تبدیل ہوسکتی ہے اس لیے جماعت اسلامی جدوجہد کرر ہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔