محسن نقوی کا پاسپورٹس کے جدید ترین مانیٹرنگ نظام ’’شکرا‘‘ کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹس کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹس کی درخواستوں، پرنٹنگ اور کارکردگی کے جدید ترین مانیٹرنگ نظام '' شکرا'' کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں 24/7 مانیٹرنگ روم اور کال سنٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے نظام کو بھی ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ محسن نقوی کو سیکوئر ہائبریڈ انٹیلیجنس فار نالج بینڈ ریسپونس انالیٹکس (شکرا) سسٹم کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے پر ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ سسٹم کو اب دنیا کے بہترین ممالک کے نظام کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے۔ نئے نظام سے پاکستان و دنیا بھر میں پاسپورٹ درخواستوں اور ڈیلیوری کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہو گی۔ ہمارا مقصد شہریوں کو عالمی معیار کی تیز رفتار اور محفوظ خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز کو آئی سی اے او سٹینڈرڈز کے مطابق بنایا گیا ہے۔ جدید جرمن آٹومیٹک مشینوں سے پاسپورٹ پرنٹنگ پراسیس سے انسانی مداخلت کو مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے ای مانیٹرنگ روم ، کال سنٹر، فرانزک لیب اور جدید پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل اینٹگریٹڈ ڈیش بورڈ سے ڈیلی آپریشنز و تمام سٹاف کی کارکردگی کی مانیٹرنگ اور ایولیوشن اور پاسپورٹ دفاتر میں رش کی بھی خودکار نشاندہی کی جا سکے گی۔ ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ دیا گیا ہے محسن نقوی کر دیا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔