اگر غصہ آیاتو میں 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا : حافظ حمد اللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سربراہ جے یو آئی کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور انکی عمریں 18 سال سے کم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو پاؤں تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ میں دوسری شادی اور دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہوں، وہ ایک ہی کافی ہے، لیکن اگر غصہ آیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔
’’موج بڑھے یا آندھی آئے، دیا جلائے رکھنا ہے‘‘ ۔۔۔پاک فوج کی جانب سےوادیٔ تیرہ میں شدید برفباری کے باوجود عوام کی مدد جاری، ویڈیو دیکھیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔