اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد کر لی ہیں، جس کے بعد ملک کے لیے ایک طویل اور تکلیف دہ باب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
حکام کے مطابق پولیس اہلکار ران گویلی کی باقیات شمالی غزہ کے ایک قبرستان سے ملیں، جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس مرحلے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کھولنے، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
ران گویلی کا تابوت اسرائیل لائے جانے پر فوجی اہلکاروں، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تل ابیب کی سڑکوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر تابوت کے گزرنے کے وقت احتراماً خاموشی اختیار کیے رہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں کو امید ہے کہ رفح کراسنگ کھلنے سے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے اور امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی ہو گی۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ مصر میں بڑی مقدار میں امدادی سامان موجود ہے جو سرحد کھلتے ہی غزہ بھیجا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی طے تھی، جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے۔ تاہم دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکومت، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں، جن پر پیش رفت کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون: نئے افق کی طرف راولپنڈی: فیصل ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کے خلاف سخت قانونی کارروائی، مالک کے بھائی سمیت ایک ملزم گرفتار چین کی چودہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی کوریج... ائیرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطی پہنچ گیا سانحہ گل پلازہ میں جل کر راکھ ہوئے 46 افراد کی تلاش معمہ بن گئی روضہ رسول ۖ پر پاکستانی عوام کیجانب سے حاضری کیلئے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے، مذہبی امورکمیٹی ایران پر کسی حملے کیلئے اپنی زمینی، فضائی یا سمندری حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: متحدہ عرب امارت
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی باقیات مرحلے میں
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔