سری نگر(نیوز ڈیسک) 27 جنوری مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں بھارتی ریاستی جبر کی ایک واضح علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 27 جنوری 1994 کو ضلع کپواڑہ میں بھارتی قابض فورسز نے ایک پُرامن اور نہتے اجتماع پر بلااشتعال فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 27 کشمیری شہری شہید جبکہ درجنوں شدید زخمی ہو گئے۔

یہ قتلِ عام اس پس منظر میں کیا گیا جب کشمیری عوام نے ایک دن قبل 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کا مکمل بائیکاٹ کر کے بھارتی قبضے اور نام نہاد جمہوریت کو مسترد کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق ظلم کی انتہا یہ تھی کہ فائرنگ کے بعد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے سے بھی روکا گیا اور مدد کے لیے آنے والے نہتے شہریوں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔

واقعے کے بعد بھارتی فوج نے کسی آزاد اور شفاف تحقیقات سے انکار کیا، جبکہ 1997 میں یہ مقدمہ بغیر کسی ذمہ دار کو سزا دیے بند کر دیا گیا۔ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور اس سانحے کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ایک مثال قرار دیتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق سانحۂ کپواڑہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت دراصل جبر، ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی ظلم و ستم ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا۔

پاکستان کی جانب سے بھی اس سانحے کی مسلسل مذمت کی جاتی رہی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کی جاتی رہے گی اور انہیں انصاف دلانے کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر مؤقف اجاگر کیا جاتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی