داعش سے منسلک خواتین اور بچوں کو خاموشی کے ساتھ برطانیہ سے واپس بھجوائے جانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ڈائریکٹر شامی کیمپ کی طرف سے داعش سے منسلک خواتین اور بچوں کو خاموشی کے ساتھ برطانیہ سے واپس بھجوائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق کیمپ ڈائریکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے کیمپوں سے کم از کم چھ خواتین اور نو بچوں کو واپس برطانیہ بھیجا گیا مگر برطانوی حکومت نے انہیں اس خدشے کی بنا پر واپس کر دیا ہے کہ ایس ڈی ایف کی نگرانی میں رہنے والے مذکورہ افراد شدت پسند تنظیم داعش کے فرار قیدی ہو سکتے ہیں۔
مذکورہ قیدیوں کو برطانیہ سے شام جانے اور داعش میں شمولیت کی پاداش پر اپنی شہریت گنوانے والی شمیمہ بیگم کے ساتھ رکھا گیا تھا۔
شمیمہ بیگم عالمی سطح پر اپنی برطانوی شہریت کی بحالی کیلئے طویل عرصہ سے جدوجہد کر رہی ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایس ڈی ایف عراقی سرحد کے قریب واقع الروز کیمپ کے کنٹرول میں ہے جہاں آئی ایس آئی ایس کے پسپا ہونے کے بعد شمیمہ بیگم سمیت دیگر خواتین اور بچوں کو رکھا گیا ہے۔
دوسری طرف مذکورہ افراد کی برطانوی واپسی کے حوالے سے کوئی پالیسی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
واپس جانے والی چند خواتین کو کیس کی بنیاد پر واپس جانے کی اجازت ملی جنہیں برطانیہ کو واپس کیا گیا، ان میں زیادہ تر وہ خواتین تھیں جو شام منتقلی کے وقت صرف بچے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواتین اور بچوں کو
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔