ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں اور وزرا کی سکیورٹی اچانک واپس، پارٹی میں تشویش کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا، اراکینِ اسمبلی اور سینئر رہنماؤں کی سکیورٹی اچانک واپس لے لیے جانے سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنما فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی سکیورٹی واپس بلائی گئی ہے، جس پر پارٹی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔ سکیورٹی ہٹائے جانے کے فیصلے سے متعلق ایم کیو ایم رہنماؤں کو کسی قسم کی باضابطہ وجہ سے آگاہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث پارٹی میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
ایم کیو ایم کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ممکنہ طور پر سانحہ گل پلازہ پر پارٹی کی جانب سے کی جانے والی تنقید اور سوالات اس اقدام کی وجہ بنے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سانحہ گل پلازہ پر سوال اٹھاتی رہے گی اور کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی واپس لیے جانے کی صورتحال پر ایم کیو ایم قیادت نے ہنگامی مشاورت شروع کر دی ہے اور اسی تناظر میں پارٹی کی جانب سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس بھی طلب کر لی گئی ہے، جس میں اس فیصلے پر مؤقف اور آئندہ لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کی سکیورٹی گئی ہے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔