ٹرمپ کا مسلم تارک وطن رکنِ پارلیمان الہان عمر کیخلاف تحقیقات کا حکم؛ وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سخت ناقد اور کانگریس کی مسلم رکن الہان عمر کے خلاف امریکی محکمۂ انصاف کو تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر محکمۂ انصاف نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی کانگریس وومن الہان عمر کے مالی معاملات اور اثاثوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ادارے الہان عمر کے مالی ذرائع پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو بقول ان کے صومالیہ سے خالی ہاتھ امریکا آئیں اور اب مبینہ طور پر 44 ملین ڈالر سے زائد کی مالیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ ریاست منی سوٹا میں 20 ارب ڈالر سے زائد کے ویلفیئر فراڈ کی تحقیقات جاری ہیں اور اسی وجہ سے الہان عمر عوام کو پرتشدد مظاہروں پر اکسا رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ بارڈر امور کے مشیر ٹام ہومَن کو منی سوٹا بھیج رہے ہیں جو براہِ راست انہیں رپورٹ کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے نرس الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الہان عمر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔