انگرڈ نامی طوفان اگلے ہفتے تباہی مچا سکتا ہے، برطانوی محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
برطانوی محکمہ موسمیات کی طرف سے انگرڈ نامی طوفان اگلے ہفتے موسلادھار بارشوں اور تیز آندھیوں کے ساتھ تباہی مچا سکتا ہے۔
پیش گوئی میں وارننگ دی گئی ہے کہ 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوائیں اور موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں‘ ریل لائن بند اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی طوفان کی وجہ سے سخت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
1865میں تعمیر ہونیوالے ٹیگن ماؤتھ گرینڈ پیئر کے بڑے حصے گزشتہ روز بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے سخت متاثر ہوئے ہیں، ٹیگن ماؤتھ کے میئر کونسلر کیٹ ولیمز نے اس پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
باور کیا جا رہا ہے کہ ہفتے کے اختتام تک جنوب مغربی انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے بعض مقامات پر شدید بارشوں ہوں گی جس کے لیے ییلو وارننگ بھی دی گئی ہے۔
سمرسیٹ، ڈیون اور کارن وال اور ساؤتھ ویلز کے زیادہ تر حصے پر محیط علاقوں‘ شمالی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کیلئے بھی مختلف الرٹس اور وارننگ جاری کی گئیں۔
زیادہ تر جنوب مغرب میں تقریباً 20 سے 40 ملی میٹر تک بارش ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ بعض مقامات پر پچاس ملی میٹر تک شدید بارشوں کی بھی توقع ہے۔
میٹ آفس کی طرف سے سیلابی صورتحال میں مختاط رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔