ایم کیو ایم کے وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی، رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ایم کیو ایم کے وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی، رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے لی گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
کراچی: (آئی پی ایس) ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے لی گئی۔
وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، امین الحق، فاروق ستار، انیس قائم خانی بھی سکیورٹی سے محروم ہو گئے، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی۔
وزارت داخلہ نے سکیورٹی اہلکاروں کو فوری واپس آنے کی ہدایت کر دی، ایم کیو ایم رہنماؤں نے آج شام 4 بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی، ایم کیو ایم کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے سانحہ گل پلازہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور لیڈروں نے سکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا، ایم کیو ایم رہنما نے بتایا کہ انہیں سکیورٹی واپس بلانے کی وجہ نہیں بتائی گئی، ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید وجہ بنی ہو، متحدہ رہنما نے کہا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلیٰ پنجاب نے 47 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دیدی وزیراعلیٰ پنجاب نے 47 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دیدی جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی ہوگا،پاکستان اے ایس آئی قتل کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت بعداز گرفتاری مسترد بھارت میں کورونا سے بھی مہلک وائرس پھوٹ پڑا، ٹی 20 ورلڈ کپ متاثر ہونے کا خدشہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کی شکایات کا فیصلہ 7 دن میں ہوگا: محسن نقوی امریکا میں برفانی طوفان سے نظام زندگی منجمد، دفاتر اور سکول بند، 30 افراد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :