بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے پنجاب حکومت کی دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں نافذ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں بسنت کے موقع پر امنِ عامہ اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کیلئے پنجاب حکومت نے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو روکنے کیلئے یہ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی بھی مذہبی یا سیاسی شخصیت کی تصویر، ملکی یا سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کے نقش و نگار لگانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ 30 روز کیلئے مذہبی یا سیاسی علامات والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق بسنت کے دوران صرف بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگ اور گُڈا استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم ہوگا، جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات کے استعمال کا خدشہ تھا، اسی لیے دفعہ 144 کے تحت یہ احکامات فوری طور پر نافذ کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاہور میں 6 سے 8 فروری تک محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، جسے ایک تفریحی تہوار کے طور پر منانے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی قسم کی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔
ترجمان کے مطابق دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے جبکہ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ اور فروخت بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق کی تیاری بسنت کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔