اسرائیل اور امریکہ کے درمیان نئے دس سالہ سکیورٹی معاہدے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل امریکا کے ساتھ نئے دس سالہ سیکیورٹی معاہدے پر بات چیت کی تیاری کر رہا ہے، جس میں براہِ راست فوجی امداد کے بجائے مشترکہ دفاعی منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نئے دس سالہ سکیورٹی معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل امریکا کے ساتھ نئے دس سالہ سیکیورٹی معاہدے پر بات چیت کی تیاری کر رہا ہے، جس میں براہِ راست فوجی امداد کے بجائے مشترکہ دفاعی منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ موجودہ مفاہمتی یادداشت 2028 میں ختم ہو رہی ہے، جس کے تحت اسرائیل کو سالانہ 3.
اسرائیلی قابض حکومت کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو اس سے قبل یہ اعلان کر چکے ہیں کہ آئندہ عشرے کے دوران اس امداد کو مرحلہ وار کم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مستعفی ہونے والے چیف مالی مشیر بنحاس نے کہا کہ متوقع مذاکرات میں اسرائیل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ نقد امداد کے بجائے مشترکہ فوجی اور دفاعی منصوبوں کو ترجیح دینے کی کوشش کرے گا۔ بِنحاس، جو متوقع مذاکرات کے حوالے سے کسی اسرائیلی دفاعی عہدیدار کا پہلا عوامی بیان دے رہے تھے، نے کہا کہ "شراکت داری محض مالی پہلو سے زیادہ اہم ہے، بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو پیسے کے برابر ہوتی ہیں، اور معاملے کو وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔" انہوں نے مزید وضاحت کی کہ براہِ راست مالی امداد، یا ان کے بقول "مفت رقم" جو سالانہ 3.3 ارب ڈالر ہے اور امریکی اسلحہ خریدنے کے لیے مختص کی جاتی ہے مفاہمتی یادداشت کا ایک جزو ہے، جس میں بتدریج کمی کی جا سکتی ہے۔
موجودہ مفاہمتی یادداشت میں سالانہ 500 ملین ڈالر مشترکہ فوجی منصوبوں کے لیے بھی شامل ہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ شامل ہیں، جو میزائلوں، ڈرونز اور راکٹ حملوں سے نمٹنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔بنحاس نے کہا کہ اسرائیل موجودہ اور آئندہ مشترکہ فوجی ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل پر الگ الگ بنیادوں پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، نہ کہ لازمی طور پر کسی نئی طویل المدتی مفاہمتی یادداشت کے تحت۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی حمایت صرف مفاہمتی یادداشت تک محدود نہیں، بلکہ خطے میں تعینات امریکی فضائی دفاعی نظام، جنگی طیارے اور بی-2 بمبار طیارے بھی اس میں شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت ان کے بقول اربوں ڈالر کی اضافی مدد کے برابر ہے۔ مفاہمتی یادداشت اور براہِ راست فوجی امداد کے علاوہ، سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 8.7 ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ بھی فراہم کی تھی، جس میں غزہ اور دیگر علاقوں میں استعمال ہونے والے فضاء سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذخائر کی دوبارہ تکمیل شامل تھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ بنحاس نے پانچ سال تک اسرائیلی سیکیورٹی ادارے میں اعلیٰ ترین مالی عہدہ سنبھالے رکھا، جہاں انہوں نے 400 ماہرینِ معیشت پر مشتمل ٹیم کے ساتھ دفاعی اخراجات کی نگرانی کی۔ انہوں نے بتایا کہ 2024ء میں انجام دی گئی اسرائیلی خفیہ کارروائی "گریم پیپر" جس میں ہزاروں دھماکہ خیز پیجرز استعمال کیے گئے پر تقریباً 300 ملین ڈالر لاگت آئی، جس میں آلات، افسران اور ایجنٹس کے اوقاتِ کار کے اخراجات شامل تھے۔ واضح رہے کہ 2016ء میں امریکا اور اسرائیل نے ایک دس سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کی مدت ستمبر 2028ء تک ہے۔اس کے تحت 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی جانی تھی، جس میں 33 ارب ڈالر اسلحہ خریدنے کے لیے گرانٹس اور 5 ارب ڈالر میزائل دفاعی نظاموں کے لیے مختص تھے۔ اسی تناظر میں، گزشتہ سال اسرائیلی فوجی صنعتوں کی برآمدات میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ جدید کثیر سطحی فضائی دفاعی نظاموں سمیت اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی خریدنے کے بڑے معاہدے طے پائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مفاہمتی یادداشت دفاعی منصوبوں مشترکہ فوجی ارب ڈالر کی نئے دس سالہ فوجی امداد پر بات چیت معاہدے پر کی تیاری امداد کے انہوں نے کے ساتھ کے تحت کے لیے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔