بسنت کی خوشیاں اندرون شہرکےمتعددرہائشیوں کیلئےماندپڑگئیں, پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سٹی42: بسنت کے جشن کے موقع پر اندرون لاہور کے متعدد رہائشیوں کے لیے خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں کیونکہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے شہر کے پرانے علاقوں میں 346 عمارتوں کی چھتیں خطرناک قرار دے کر بسنت منانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بسنت کے دوران اندرون لاہور میں درجنوں خستہ و مخدوش عمارتوں کی چھتوں کو خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے شہر کے مختلف تاریخی علاقوں بشمول اکبری منڈی، دہلی گیٹ، بھاٹی گیٹ، کشمیری گیٹ اور موچی گیٹ کے علاقوں میں 346 عمارتوں کی چھتوں کی نشان دہی کی ہے۔
انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا
اتحادی نے متعلقہ عمارتوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور خطرناک قرار دی گئی چھتوں پر بسنت منانے کی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی، والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے ان عمارتوں کے باہر نوٹس بھی چسپاں کر دیے گئے ہیں تاکہ عوام کو واضح اطلاع مل سکے۔
اندرون لاہور کے تمام مشہور دروازوں اور بازاروں کے باہر بھی آگاہی بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں تاکہ شہری بسنت کے دوران خطرناک عمارتوں کی چھتوں سے دور رہیں اور کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 عمارتوں کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.