عالمی بینک کا پاکستان میں ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس بیس بڑھانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں ترقی کے موضوع پر رپورٹ میں پاکستان میں ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس بیس بڑھانے پر زور دیا ہے اور ریونیو بڑھانے کیلئے آلودگی کی حوصلہ شکنی کی بھی تجویز دی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہے، ناقص آبپاشی نظام اور غیر مؤثر زرعی طریقوں سے پانی ضائع ہو رہا ہے، پنجاب میں جدید آبپاشی منصوبے سے 57 فیصد پانی کی بچت ہوئی جبکہ جدید زرعی منصوبوں سے فصلوں کی پیداوار میں 14 سے 31 فیصد اضافہ ہوا۔
اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کیا جارہا ہے، سبسڈی اصلاحات سے غلط تقسیم، مالی نقصان، سرکلر ڈیٹ میں کمی آئے گی، ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کو سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کاروباروں کے لیے کلائمٹ رسک فیسلٹی قائم کی جارہی ہے، بی آئی ایس پی کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے دوران بی آئی ایس پی کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو امداد دی گئی، پاکستان اور مالدیپ میں امداد کے لیے خود رجسٹریشن کی سہولت موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عالمی بینک
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔