عالمی قانون کی حکمرانی صرف بیانات سے قائم نہیں رہ سکتی، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون صرف اعلانات سے نہیں بلکہ مستقل طرزِ عمل اور قابلِ اعتبار احتساب سے برقرار رہ سکتا ہے۔ پاکستان نے کہا کہ اگر کثیرالجہتی نظام کو زندہ رکھنا ہے تو طاقت کے بجائے قانون، مصلحت کے بجائے اصول، اور بے سزا رویوں کے بجائے انصاف کو فوقیت دینا ہوگی۔
یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا عنوان تھا
عالمی قانون کی حکمرانی کی توثیق: امن، انصاف اور کثیرالجہتی نظام کی بحالی کے راستے۔
سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کی موجودہ صدارت پر صومالیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس اہم مباحثے کے انعقاد کو بروقت اور نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اقوامِ متحدہ، کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون سے متعلق سال بھر جاری اعلیٰ سطحی سفارتی مکالمے کا تسلسل ہے۔
بین الاقوامی قانون کی کمزوری عالمی عدم استحکام کا سببپاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے عالمی تنازعات، انسانی بحرانوں اور کمزور کثیرالجہتی تعاون میں تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کا مقصد ریاستوں کے طرزِ عمل کو متعین اصولوں کا پابند بنا کر عالمی نظام میں استحکام پیدا کرنا ہے، لیکن جب اس کا اطلاق انتخابی ہو جائے تو قانون اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ
انہوں نے زور دیا کہ ایک پُرامن اور مستحکم عالمی نظام اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی حکمرانی منصفانہ، مستقل اور بلاامتیاز ہو۔
قانون کے بجائے طاقت کے استعمال پر تشویشسفیر عاصم افتخار نے کہا کہ آج اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول ’ریاستوں کی خودمختار برابری، عدم مداخلت، علاقائی سالمیت، طاقت کے استعمال کی ممانعت اور حقِ خودارادیت‘ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منشور سے ہٹ کر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانا اجتماعی سلامتی کو نقصان پہنچاتا اور کثیرالجہتی اداروں کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔
بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا حقِ دفاعپاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مئی میں بھارت نے پاکستان کے خلاف بلااشتعال فوجی جارحیت کی، جو بین الاقوامی قانون اور پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کو ذمہ دارانہ، محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا، اور یہ پیغام دیا کہ جبر اور بے سزا رویوں پر مبنی کوئی نیا معمول قابلِ قبول نہیں۔
کشمیر مسئلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑسفیر عاصم افتخار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے مسلسل انکار سنگین انسانی حقوق کے مسائل کو جنم دے رہا ہے اور خطے میں پائیدار امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر سخت ردِعملپاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بھی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور یہ اقدام لاکھوں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ معاہدوں کی پاسداری عالمی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔
تنازعات کے پُرامن حل سے پاکستان کی وابستگیپاکستان نے واضح کیا کہ وہ تنازعات کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ اس حوالے سے سفیر نے گزشتہ جولائی میں سلامتی کونسل کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد 2788 کا حوالہ دیا، جس میں مکالمے، ثالثی اور عدالتی تصفیے کو تنازعات کے حل کا اولین ذریعہ قرار دیا گیا۔
عالمی جنوب، اصلاحات اور دہرا معیارپاکستانی مندوب نے کہا کہ دہرا معیار اور قوانین پر عدم عملدرآمد کے باعث عالمی نظام اکثر ترقی پذیر ممالک، بالخصوص عالمی جنوب، کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ تاہم اس کے باوجود یہ ممالک اقوامِ متحدہ کے منشور اور ایک منصفانہ عالمی نظام پر اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں دہشتگردوں کو جدید اسلحے کی فراہمی امن کے لیے خطرہ، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ
انہوں نے اقوامِ متحدہ میں ایسی اصلاحات پر زور دیا جو طاقت اور مراعات کے بجائے برابری، جمہوریت اور احتساب پر مبنی ہوں۔
فلسطین اور سلامتی کونسل کی ساکھسفیر عاصم افتخار نے فلسطین کی صورتحال کو بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق کی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں عالمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اقوامِ متحدہ کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔
قانون کی پاسداری بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی تجاویزپاکستان نے سلامتی کونسل کو تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ کونسل اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کی مؤثر نگرانی کرے، قانونی تنازعات میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے زیادہ منظم رجوع کیا جائے، قانونی امور کے دفتر کی باقاعدہ بریفنگز کو ادارہ جاتی حیثیت دی جائے اور اقوامِ متحدہ کے ادارے آئی سی جے کی مشاورتی آراء سے زیادہ استفادہ کریں۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی قانون کی حکمرانی محض الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے قائم رہتی ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور سے ماخوذ ایک ایسے عالمی نظام کے لیے پُرعزم ہے جہاں تنازعات پُرامن طریقے سے حل ہوں، ذمہ داریاں نبھائی جائیں، اور اقوامِ متحدہ امن، انصاف اور انسانی وقار کی حقیقی ضامن ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد عالمی قانون کی حکمرانی بین الاقوامی قانون سلامتی کونسل کی انہوں نے کہا کہ متحدہ کے منشور عالمی نظام پاکستان نے سلامتی کو کے بجائے قرار دیا کی ساکھ کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔