لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے، طلال چوہدری کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک اور لندن سے زیادہ محفوظ ہے۔سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں گاڑیوں کے کالے شیشے کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کالے شیشوں سے متعلق بیرون ملک اضافی فیس جمع کرائی جاتی ہے، اگر کوئی سکیورٹی یا پھر شوق کے لیے کالے شیشے استعمال کرتا ہے تو وہ فیس دے۔چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ہم نے آخری میٹنگ میں کہا تھا جب تک پالیسی نہ بنے کارروائی نہ کریں، اس کے باوجود لوگوں پر 50 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ کمیٹی ہمیں گائیڈ کرے، اس کی پالیسی کسی صوبے اور وفاق میں نہیں ہے، چیئرمین کمیٹی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پالسیی نہیں ہے تو جرمانے کیسے کر رہے ہیں؟ طلال چوہدری نے کہا کہ ایکسائز کا ایک ایکٹ ہے اس پر ہم کارروائی کر رہے ہیں۔طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ 10 سال پہلے سرٹیفکیٹ جاری ہوتے تھے لیکن اس کا غلط استعمال کیا گیا، کالے شیشے ایک فیشن بن چکا ہے اور لوگ اسکن کی بیماری کا بہانہ کرتے ہیں، 50 ہزار روپے جرمانے کا ایک قانون موجود ہے۔اجلاس میں ممبر کمیٹی ثمینہ ممتاز نے کہا کہ سکیورٹی خدشات موجود ہیں، پولیس لوگوں کو محفوظ نہیں کر پا رہی، کچے کے 6 پولیس اہلکاروں نے ایک بچی کا ریپ کیا، سکیورٹی خدشات پر ہمارے ایک ممبر شہید ہو چکے ہیں۔سینیٹر طلال چوہدری نے کہا پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ریپ پوری دنیا میں ہوتے ہیں، لیکن لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے، جس پر سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اپر دیر میں لوگوں کو روک کر ان کے گلے کاٹے جا رہے ہیں، آپ یہاں ہمیں بتا رہے ہیں پاکستان لندن اور نیویارک سے زیادہ محفوظ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سے زیادہ محفوظ ہے طلال چوہدری نے نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔