پاکستان عالمی لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے لیے تیار، چوہدری سالک حسین
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہنر مندی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور شفاف بھرتی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاکہ پاکستانی محنت کش بین الاقوامی معیار کے مطابق مواقع سے مستفید ہو سکیں۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ تیسری گلوبل لیبر مارکیٹ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی جدید لیبر پالیسیوں اور ہنرمندی کی تیاری کے عزم کو اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیے سمندر پار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جانے کیخلاف چوہدری سالک کا وزرات داخلہ کو خط
وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان میں لیبر مارکیٹ میں اصلاحات، طلب کے مطابق مہارتوں کی تیاری، اور ڈیجیٹل بیورو آف امیگریشن کے قیام پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تربیتی نصاب کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے تاکہ نوجوان عالمی لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار ہوں۔
ترقی پذیر شعبوں پر خصوصی توجہوفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح ان شعبوں میں مہارت بڑھانا ہے جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جیسے تعمیرات، صحت، آئی ٹی، لاجسٹکس اور گرین جابز۔
چوہدری سالک حسین نے زور دیا کہ شفاف اور اخلاقی بھرتی نظام، محنت کشوں کے لیے آسان نقل و حرکت، اور قومی سطح پر مرکزی پالیسی سازی نہایت اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بیرون ملک بھیک مانگنے کی وجہ سے پاکستانیوں کا امیج خراب ہوتا ہے، سالک حسین
کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے سعودی عرب، عمان اور فلپائن کے وزراء اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں دو طرفہ لیبر معاہدے، مہارتوں کی شراکت داری اور لیبر موبیلٹی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کانفرنس کی دیگر سرگرمیاںچوہدری سالک حسین نے مساند کے دسویں سال کی تقریب میں شرکت کی اور منظم و اخلاقی بھرتی نظام کو سراہا۔ عالمی کمپنیوں کے نمائش اسٹالز کا دورہ کیا۔ گلوبل لیبر مارکیٹ اکیڈمی کی گریجویشن تقریب میں بھی شریک ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چوہدری سالک حسین نے لیبر مارکیٹ کہ پاکستان وفاقی وزیر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔