راولپنڈی: 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے ریپ کیس میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
راولپنڈی میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے ریپ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب کہ اصل ملزم چھوڑنے پر تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر تیمور وقاص کو معطل کر دیا گیا۔
خاتون پولیس آفیسر کو از سر نو تفتیش کرنے کا حکم جاری کردیا گیا، 15 سالہ گرفتار گھریلو ملازم عبد الوہاب کا ڈی این اے ٹیسٹ مکمل ہوگیا۔
ڈیوٹی سول جج طلال ارشد نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تفتیش مکمل ہوگئی۔
ملزم وہاب کے والد نے مقدمہ کی از سر نو تفتیش کی درخواست کی اور مؤقف اپنایا کہ میرا بیٹا 4 ماہ قبل ملازم ہوا لڑکی 7 ماہ کی پریگنیٹ ہے، پولیس نے اصل ملزم مالک کو چھوڑ کر میرے بیٹے کو پکڑ لیا۔
متاثرہ لڑکی زونیرہ، اس کی گارڈین غلام فاطمہ اور پہلا ملزم تینوں غائب ہوگئے، تھانہ صادق آباد پولیس نے مقدمہ 13 جنوری کو درج کیا۔
ڈیوٹی جج طلال ارشد نے ملزم کو 10 فروری کو چالان سمیت پیش کرنیکا حکم دیا۔
گھریلو ملازم ملزم کے ماموں نے تفتیشی آفیسر پر رشوت کا الزام لگا دیا اور کہا کہ تفتیشی آفیسر تیمور نے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے مجھ سے تھانہ میں 20 ہزار روپے لیے۔
ملزم کے ماموں شفیق نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ریپ کے اصل ملزم گھر کے مالک عدیل کو رشوت لے کر تفتیشی، متاثرہ لڑکی اور گارڈین نے چھوڑ دیا، لڑکی 7 ماہ کی پریگینیٹ میرا بھانجا 4 ماہ قبل ملازم ہوا۔
گرفتار ملزم کے ماموں محمد شفیق نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کرپشن بھانڈا پھوڑ دیا، حکام بالا نے رشوت وصولی کا سخت نوٹس لے کر تفتیشی آفیسر کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تفتیشی آفیسر گھریلو ملازم
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔