علیزے شاہ کے الزامات پر شازیہ منظور نے بھی خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سینیئر گلوکارہ شازیہ منظور نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ علیزہ شاہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر بالآخر خاموشی توڑ دی ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں شازیہ منظور نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علیزے شاہ کو کسی بھی قسم کا دھکا نہیں دیا وہ خود توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور اسٹیج پر پھسل گئیں۔
شازیہ منظور نے علیزے شاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نہایت خوبصورت اور پیاری لڑکی ہے میں اسے کیوں دھکا دوں گی انہوں نے مزید کہا کہ اس دن علیزہ شاہ بہت خوبصورت نظر آ رہی تھیں اور ممکن ہے کہ وہ نظرِ بد کا شکار ہو گئی ہوں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل علیزہ شاہ نے الزام عائد کیا تھا کہ برائیڈل فیشن شو کے دوران اسٹیج پر ان کا گرنا محض اتفاق نہیں تھا بلکہ شازیہ منظور نے مبینہ طور پر انہیں بار بار پکڑا اور دانستہ طور پر دھکا دیا، جس کے باعث وہ توازن کھو بیٹھیں۔
علیزہ شاہ کا مزید دعویٰ تھا کہ اس طرح کا رویہ شازیہ منظور کی عادت ہے اور وہ اس سے قبل سوشل میڈیا اسٹار جنت مرزا کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا سلوک کر چکی ہیں۔ علیزہ شاہ کے مطابق ایسے واقعات کسی بھی فنکار کے لیے شرمندگی اور ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں، بالخصوص جب وہ عوامی سطح پر پیش آئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شازیہ منظور نے علیزہ شاہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔