آفس میں محبت کا خوفناک انجام، ساتھی نے ایچ آر مینیجر کا سر قلم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں ایک دفتر میں ساتھیوں کے درمیان تعلقات اچانک خوفناک المناک واقعے میں بدل گئے جب 32 سالہ ایچ آر مینیجر کو اس کے ہی ساتھی نے قتل کر کے لاش کو تھیلے میں ڈال کر پل کے نیچے پھینک دیا۔ مقامی لوگوں نے تھیلا دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔
منکی شرما اور ونے سنگھ دو سال سے تعلقات میں تھے لیکن گزشتہ چھ ماہ سے سنگھ کو شبہ تھا کہ منکی کسی اور مرد سے رابطے میں ہیں۔ اس شبہ نے تعلقات کو مہلک جھگڑوں کی راہ پر ڈال دیا۔ 23 جنوری کو منکی دفتر روانہ ہوئی لیکن شام تک واپس نہ آئیں۔ اہل خانہ کی اطلاع پر پولیس نے تفتیش شروع کی اور اگلی صبح مقامی لوگوں نے جواہر پل کے نیچے ایک تھیلا پایا جس میں ایک عورت کی بے سر لاش موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے
سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوا کہ ملزم سکورٹر پر لاش لے جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق جھگڑے کے دوران سنگھ نے چھری سے حملہ کیا اور منکی کو قتل کر دیا۔ بعد ازاں اس نے لاش کے کٹے ہوئے حصے اور دیگر شواہد کو مختلف جگہوں پر پھینک دیا۔
پولیس نے بتایا کہ سنگھ ، منکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن انکار پر اس نے یہ سنگین اقدام کیا۔ ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ پولیس شواہد کے لیے مزید کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت میں قتل قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت میں قتل قتل
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔