شہر میں پولیس کم ہے، شاید اس لئے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لی ہو، ترجمان سندھ حکومت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سیکیورٹی واپس لی ہو۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے کہا کہ میرے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سیکیورٹی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کوئی وجوہات ہوں گی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا، اراکین اسمبلی اور لیڈروں کی سیکیورٹی اچانک واپس لے لی گئی۔
ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ صوبے میں فرانزک لیب کا قائم نہ ہونا حکومت کی کوتاہی ہے، سال کے آخر میں سندھ کی فرانزک لیب فعال ہوجائے گی۔
سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ گل پلازا کے سامنے دو پلازے ہیں، جہاں دکانداروں کو شفٹ کیا جائے گا، اس حوالے سے حکومت پلازا کے مالکان سے بات کر رہی ہے۔ ایک پلازا میں 500 اور دوسرے پلازے میں 350 دکانیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی گل پلازا کے نقصان کا تخمینہ لگائے گی اور اس کا ازالہ بھی حکومت کرے گی، کمیٹی تین ہفتے میں گل پلازا کے نقصان کی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان کے سیکیورٹی واپس پلازا کے
پڑھیں:
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
اسلام آباد:ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔