وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس درست قرار دے دیا, ہائیکورٹس کا فیصلہ جزوی کالعدم WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹس کے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم کر دیئے اور سپر ٹیکس برقرار رکھا ہے۔


چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے سپرٹیکس کیس میں مختصر فیصلہ سنایا، کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ نے کی۔وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کر دیئے گئے، ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن4 بی 2015 کو برقرار رکھا جائے گا، ہائی کورٹس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق 2015 کی درخواستوں کو مسترد کردیا اور قرار دیا کہ پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے۔عدالت نے سپر ٹیکس کے متعلق 2022 کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں اور فیصلہ دیا کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اگر کسی انفرادی کو رعایت بنتی ہے وہ متعلقہ فورم پر جائے، مضاربہ، میوچل فنڈز، اور بینولیٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔وفاقی آئینی عدالت کے فیصلہ کے مطابق مختلف سیکٹرز سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔

قبل ازیں چند گھنٹے پہلے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا، دورانِ سماعت مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے جواب الجواب دلائل مکمل کیے۔چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے تھے کہ کوشش کریں گے آج ہی مختصر فیصلہ سنا دیں، آرڈر کا انتظار کریں اور اگر آج ممکن نہ ہوا تو کل مختصر فیصلہ جاری کریں گے۔خیال رہے کہ اس فیصلہ سے وفاقی حکومت کو تین سو ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہو گا، اس فیصلے کے بعد سپر ٹیکس سے متعلق قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے اور حکومت کے مقف کو آئینی جواز حاصل ہو گیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، انوار الحق کاکڑ افغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، انوار الحق کاکڑ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نیب اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق جاپان کے سفارت خانے نے ٹائم-لوپ کامیڈی “مانڈیز: سی یو ‘ذس’ ویک!” کی فلم اسکریننگ کی میزبانی کی وادی تیراہ نقل مکانی: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی بیان مسترد کر دیا سانحہ گل پلازہ: شہدا کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دے دی گئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی