گل پلازہ کے 30 متاثرین کو آج معاوضے کے چیک مل جائیں گے، ڈپٹی کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی:
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے 30 افراد کے کوائف منگل کو کمشنر کراچی کو بھجوائے گئے تھے اور امید ہے کہ آج معاوضہ کی رقم کے چیکس انہیں مل جائیں گے۔
ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ جوں جوں لواحقین ہمیں دستاویزات فراہم کر رہے ہیں ان کے کیسز فوری آگے بھجوائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ڈی سی آفس میں سہولت ڈیسک بھی قائم کی گئی ہے جہاں تمام ادارے ایک ساتھ موجود ہیں تاکہ ورثاء کو دستاویزات تیار کرانے میں تکلیف کا سامنا نہ ہو اور لواحقین مختلف محکموں کے چکرنہ لگائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی ایف آر سی نکوائی جا رہی ہے اور اس ضمن میں نادرا وین بھی ڈی سی آفس میں موجود ہے، ایف آرسی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ معاوضہ کی رقم جاں بحق افراد کے حقیقی ورثاء کو ملے۔
ڈی سی ساوٌتھ نے بتایا کہ گل پلازہ کی عمارت میں جاری سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے، اب تک لا پتا افراد کی فہرست 79 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 73 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، 23 افراد کی شناخت کا عمل مکمل کرکے باقیات ورثا کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔