شہزاد رائے نے اپنے نئے گانے میں تعلیمی نظام پر سوالات اٹھا دیئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستانی گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر اپنا نیا گانا جاری کرتے ہوئے ملک کے تعلیمی نظام اور بچوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو موضوع بنایا ہے۔
انہوں نے اس بات پر غور کرنے کی دعوت دی ہے کہ آیا ہمارا تعلیمی ماحول واقعی بچوں کی ذہنی نشوونما میں مدد دے رہا ہے یا خاموشی سے انہیں حد سے زیادہ توقعات کے بوجھ تلے دبا رہا ہے۔
شہزاد رائے نے اپنے ادارے زندگی ٹرسٹ کے زیرِ انتظام اسکولوں کے طلبا کے ساتھ مل کر یہ گانا ریلیز کیا جس کا عنوان ’لیٹ ہو گئے‘ رکھا گیا ہے۔ میوزک ویڈیو کی ابتدا ایک قدرے چونکا دینے والے مگر مانوس منظر سے ہوتی ہے جہاں وہ والدین سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ وہ ابھی پیدا بھی نہ ہونے والے بچے کا اسکول میں داخلہ کیوں کروانا چاہتے ہیں۔ جب والدین الجھن کا شکار ہوتے ہیں تو شہزاد رائے اسکرین پر نمودار ہو کر بے تکلف انداز میں کہتے ہیں، ’’لیٹ ہو گئے‘‘۔ اور یوں ویڈیو کا مرکزی پیغام فوراً واضح ہو جاتا ہے۔
طنز اور کہانی کے امتزاج کے ذریعے یہ گانا اس دباؤ کو نمایاں کرتا ہے جس کا سامنا بچوں کو اسکول جانے سے بھی پہلے کرنا پڑتا ہے۔ ویڈیو میں ایک اہم نکتہ مہنگے نجی اسکولوں کے داخلہ امتحانات اور ڈیڈ لائنز پر اٹھایا گیا ہے، جہاں والدین کو کم عمر بچوں کو انٹرویوز کے لیے پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ایک ننھی بچی کی التجا اس کیفیت کی عکاسی کرتی ہے جو بس اتنا چاہتی ہے کہ توقعات کے بوجھ سے پہلے اسے کچھ وقت بچہ رہنے دیا جائے۔
کہانی آگے بڑھتے ہوئے زبان کے مسئلے کی طرف جاتی ہے، جہاں بچے گھروں میں مختلف زبانیں بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہزاد رائے اس تضاد کو جذباتی دباؤ کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں ڈانٹ ڈپٹ مختلف زبانوں میں سنائی دیتی ہے لیکن سمجھ کم ہی آتی ہے۔
ویڈیو میں ٹیوشن کلچر کی مسلسل دوڑ پر بھی تنقید کی گئی ہے جو بچوں کو آرام اور تجسس کے لیے وقت دینے کے بجائے انہیں ایک نہ ختم ہونے والے تعلیمی دباؤ میں جکڑ دیتی ہے۔ بچے اسکول کے بعد سیدھے شام کی اضافی کلاسوں کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے ان کی تھکن نمایاں ہوتی ہے۔
ایک اور حصے میں غافل والدین کے رویے کو اجاگر کیا گیا ہے جہاں گفتگو کی جگہ اسکرینیں لے لیتی ہیں اور بچوں کو سمجھنے کے بجائے بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ویڈیو کے اختتام پر شہزاد رائے واضح پیغام دیتے ہیں کہ خاندانوں کو تعلیم کو مقابلہ بازی کے بجائے نشوونما اور سیکھنے کے عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بچوں کو
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔