سرکاری خرچ پہ روضہ رسولؐ پر حاضری کیلئے قائمہ کمیٹی کی سفارشات وزارت مذہبی امور کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پارلیمانی وفد کے سرکاری خرچ پر روزہ رسول ﷺ پر حاضری اور سلام پیش کرنے کے لیے قائمہ کمیٹی مذہبی امور نے سفارشات وزارت مذہبی امور کو ارسال کردیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے اپنی ارسال کردہ سفارشات میں کہا ہے کہ پارلیمانی وفد کے ہوائی ٹکٹوں کے اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے گی، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں کھانے پینے کے اخراجات بھی قومی اسمبلی برداشت کرے گی، وفد کے لیے ہوٹلوں یا سرکاری رہائش گاہوں میں انتظام کیا جائے۔
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ پارلیمانی وفد کی معاونت کے لیے پروٹوکول افسر بھی تعینات کیا جائے، قائمہ کمیٹی مذہبی امور کے سیکریٹری کو بھی وفد میں شامل کیا جائے، پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد کے خطیب کو بطور گائیڈ وفد میں شامل کیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزارت مذہبی امور ہر سال محرم کے پہلے ہفتے میں کمیٹی اراکین نامزد کریں۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر، قومی اسمبلی کی ہر پارلیمانی جماعت سے کم از کم ایک رکن نامزد کریں گے، پارلیمانی کمیٹی کے اراکین میں ترجیحی طور پر قائمہ کمیٹی مذہبی امور کے ارکان کو شامل کیا جائے گا، پارلیمانی وفد ہر سال ربیع الاول کے دوسرے ہفتے میں روضہ رسول ﷺ پر حاضری دے گا، پاکستانی عوام کی طرف سے وفد روزہ رسول ﷺ پر درود اور سلام پیش کرے گا۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی وفد سات روز سعودی عرب میں قیام کرے گا، وفد کو طبی سہولت سرکاری خرچ پر فراہم کی جائے گی، مدینہ اور مکہ میں رہائش اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ڈائریکٹریٹ جنرل حج جدہ کرے گا، قومی اسمبلی کا میڈیا ونگ پارلیمانی وفد کے دورے کی میڈیا کوریج کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ سفارشات قائمہ کمیٹی مذہبی امور کی چار رکنی ذیلی کمیٹی نے تیار کرکے انہیں منظور کیا ہے اور وزارت مذہبی امور کر ارسال کی ہیں۔
ذیلی کمیٹی شگفتہ جمانی رکن قومی اسمبلی کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی جس میں آسیہ ناز تنولی، ثمینہ خالد گھرکی اور سید سمیع اللہ ذیلی کمیٹی کے رکن تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی مذہبی امور سفارشات میں کہا پارلیمانی وفد قومی اسمبلی کیا جائے کرے گا وفد کے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔