ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ سقوط بنگال کے بعد یہاں جو رہ گئے تھے ان کو مکمل حق دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں سٹیزن ترمیمی بل پر بحث کی گئی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی پاسپورٹ نے بتایا کہ سقوط بنگال کے بعد جو لوگ یہاں رہ گئے تھے، ان کو مکمل حق دیا گیا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ 1971 کے بعد پاکستان آنے والوں کو شہریت دی جائے۔ اس موقع پر رکن کمیٹی ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی 1956 تک امیگریشن معاملات چلتے رہے۔ 1990 تک پاکستان آنے والے بنگالیوں کو شہریت لسٹ میں شامل کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ جو لوگ اب کسی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں رہ رہے ہیں تو ان کا کیا کرنا ہے۔ اس سوال پر وزارت قانون کی جانب سے جواب دیا گیا کہ یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے، اگر حکومت تاریخ طے کر دے تو بل میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر ہی ممکن ہوگا، کیبنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ 1971 کے بعد آنے والے بنگالیوں کا کچھ تو کرنا ہوگا، جس پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ یہ بل پاس ہوا تو پھر 1979 کے بعد آنے والے بھی اس کا ستعمال کریں گے۔ اس معاملے پر اپنی اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کر لیتے ہیں۔ پی پی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ شہریت کا بل تو سپریم کورٹ میں بھی چلتا رہا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا کہ دیا گیا کے بعد

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف