بنگلا دیش کی کرکٹ ویور شپ 10 ممالک کے برابر، محمد یوسف کی آئی سی سی کے فیصلے پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستان کے سابق کرکٹر محمد یوسف نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے آئی سی سی کے فیصلے پر شدید تنقید کی۔
محمد یوسف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ بنگلادیش کی کرکٹ ویورشپ دس ممالک کی مجموعی ویورشپ کے برابر ہے لیکن آئی سی سی نے اس ملک کو ورلڈ کپ سے نکال کر انصاف اور تسلسل کے اصولوں پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
محمد یوسف نے لکھا کہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، اسکاٹ لینڈ، نیپال، نیدرلینڈز، آئرلینڈ، نمیبیا، زمبابوے، سری لنکا اور افغانستان جیسے دس ممالک کی ویورشپ تقریباً 178 ملین ہے جبکہ بنگلادیش اکیلے کی 176 ملین ہے۔
The combined cricket viewership of
New Zealand, Australia, Scotland, Nepal, Netherlands, Ireland, Namibia, Zimbabwe, Sri Lanka and Afghanistan
is broadly equivalent to the viewership Bangladesh generates on its own.
10 nations combined:178 million
Bangladesh alone: 176 million
In… — Mohammad Yousaf (@yousaf1788) January 26, 2026
محمد یوسف نے کہا کہ ایک ایسا کھیل جو عالمی ناظرین پر مبنی ہے، اس میں بنگلادیش جیسے ملک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرنا ناقص گورننس اور دوہرے معیار کی علامت ہے۔
مزید پڑھیںسلمان آغا نے ڈریوڈ، محمد یوسف اور دھونی کا ریکارڈ پاش پاش کردیا
اُن کا کہنا تھا کہ جب سہولیات منتخب بنیادوں پر فراہم کی جائیں تو انصاف ختم ہو جاتا ہے اور کرکٹ کو اثر و رسوخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کے تحت چلایا جانا چاہیے۔
یہ تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب بنگلادیش نے بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز میں حصہ لینے سے انکار کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی آئی سی سی کے فیصلے کو دوہرے معیار کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ممکنہ طور پر بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے یا ورلڈ کپ بائیکاٹ جیسے آپشنز پر غور کرنے کی بات کی ہے۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان بنگلادیش کے موقف کے ساتھ ہے اور وہ کرکٹ کے اصولوں کا احترام کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔