برطانیہ: آج طوفان چندرا کے ٹکرانے سے نظام زندگی متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ کو ایک بعد ایک طوفان کا سامنا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آج برطانیہ سے ٹکرانے والا طوفان چندرا اپنے ساتھ تیز ہوائیں اور بارش لے کر آئے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال برطانیہ سے ٹکرانے والا یہ تیسرا طوفان ہوگا، طوفان چندرا کے سبب ملک کے بیش تر حصوں میں نظام زندگی متاثر ہونے کا امکان ہے، شمالی آئرلینڈ، جنوب مغربی اور جنوب مشرقی انگلینڈ اور ویلز میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے، تیز ہواؤں سے عمارتوں کو نقصان پہنچنے، درختوں کے گرنے اور بجلی جانے کا بھی خدشہ ہے۔
طوفان چندرا کے باعث برطانیہ کے 27 علاقوں میں برف باری کی وارننگ جاری کی گئی ہے، توقع ہے کہ اس طوفان سے ملک بھر میں معمولاتِ زندگی میں خلل پڑ جائے گا۔ یہ وارننگز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سال کے آغاز سے ہی برطانیہ کو مسلسل خراب موسمی حالات کا سامنا ہے۔
برطانیہ میں آنے والا اگلا شدید برفانی طوفان فی گھنٹہ 6 انچ تک برف باری کا سبب بننے جا رہا ہے، جس کا آغاز کل سے متوقع ہے۔ اس دوران مغربی اور شمالی یارکشائر کے بعض علاقوں، خاص طور پر بلند مقامات، موٹی برف کی تہہ سے ڈھک جائیں گے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں سیلاب اور سفری مشکلات کا بھی خدشہ ہے، جب کہ انگلینڈ کے شمالی حصوں اور اسکاٹ لینڈ کے کچھ علاقوں میں بلند مقامات پر نمایاں برف باری متوقع ہے۔ اونچے علاقوں میں شدید بارش برف میں تبدیل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں منگل، 27 جنوری کو سفر اور بجلی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔
محکمۂ موسمیات (میٹ آفس) کی جانب سے مجموعی طور پر 10 موسمی وارننگز جاری کی گئی ہیں، اور سڑکوں اور ریل نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر بدنظمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان میں سے ایک وارننگ آدھی رات سے شروع ہو کر شام 5 بجے تک نافذ رہے گی۔ یہ وارننگ انگلینڈ کے شمالی علاقوں، بشمول گریٹر مانچسٹر، پر لاگو ہوگی، جہاں بعض مقامات پر 20 سینٹی میٹر تک برف پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم نشیبی علاقوں میں تقریباً 5 سینٹی میٹر برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں برف باری کی ایک علیحدہ وارننگ جاری کی گئی ہے جو صبح 6 بجے سے شروع ہو کر بدھ، 28 جنوری کو رات 12 بجے تک جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طوفان چندرا علاقوں میں کی گئی
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان