رمضان المبارک کی آمد: صوبہ سندھ میں آٹا مہنگا کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ حکومت نے آٹے کی قیمت کا تعین کردیا ہے، جس کے بعد آٹے کی فی کلو ریٹیل قیمت 8 روپے اضافے سے 107 روپے کلو مقرر کردی گئی ہے جب کہ 10 کلو آٹے کا تھیلا 1070 روپے میں فروخت ہوگا۔
سندھ حکومت نے آٹے کی قیمتوں کا باضابطہ تعین کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق آٹے کی فی کلو ریٹیل قیمت 8 روپے اضافے کے بعد 107 روپے مقرر کی گئی ہے جب کہ 10 کلو آٹے کا تھیلا 1070 روپے میں فروخت ہوگا۔ اسی طرح آٹے کی ایکس مل قیمت فی کلو 104 روپے اور 10 کلو آٹے کا تھیلا 1040 روپے مقرر کیا گیا ہے۔اس سے قبل دسمبر 2025 میں آٹے کی ریٹیل قیمت 99 روپے مقرر کی گئی تھی۔
دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جنید عزیز نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ریٹیل مارکیٹ میں آٹا سرکاری قیمت 107 روپے فی کلو ہی فروخت کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے دسمبر اور جنوری کے لیے 2 لاکھ 30 ہزار ٹن گندم فراہم کی ہے۔
چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق فلور ملز کی ماہانہ گندم کی طلب ڈھائی سے 3 لاکھ ٹن کے درمیان ہے جب کہ سرکاری فراہمی کے بعد آٹے کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔