سکیورٹی واپسی سے خوفزدہ نہیں، کراچی پر وفاقی کنٹرول ضروری، مصطفیٰ کمال کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی کی صوبائی حکومت سے آزادی اور وفاق کے کنٹرول میں لینے کا دوبارہ مطالبہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت کے غیر مؤثر کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے اور وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، جس کے لیے آرٹیکل 148 کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانوں کے ضیاع اور حکومت کی غفلت پر انہیں ظلم کہا گیا، اور یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے انتظامی معاملات سنبھالنے کے اہل نہیں ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کے اقدام سے ان کے موقف کی تصدیق ہوئی ہے، اور سکیورٹی نہ ہونے سے ان کا موقف متاثر نہیں ہوتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت کچھ عناصر کو سکیورٹی دے کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کے حالات پر وفاقی حکومت کو خط لکھا جا چکا ہے اور کابینہ میٹنگ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا، اور دنیا ترقی کر رہی ہے جبکہ کراچی کے بچے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔