غزہ کی 5 سالہ شہید بچی کی کہانی پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کی آسکر میں نامزدگی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
تیونس کی ہدایتکارہ کاوتر بن ہانیا کی فلم The Voice of Hind Rajab کو بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:اے آر رحمان پر آسکر یافتہ گانے ’جے ہو‘ کا کریڈٹ چھیننے کا الزام ، حقیقت کیا ہے؟
فلم 5 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے، جو 29 جنوری 2024 کو غزہ سٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے دوران اپنے خاندان کی کار میں محصور ہوکر شہید ہو گئی تھی۔ ہند اپنی فیملی کے ساتھ شمالی غزہ سے فرار ہو رہی تھی جب حملے کا نشانہ بنی، اور قریباً 2 ہفتے کے بعد اس کی موت کی تصدیق ہوئی۔
فلم کی کہانی ہند کے آخری لمحات پر مبنی فون کال پر مرکوز ہے، جس میں اس نے فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سے مدد کی اپیل کی تھی۔ یہ کال بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر غصہ اور انصاف کے مطالبات کو ہوا دی۔ ہند تک پہنچنے والے 2 پیرا میڈکس بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں:آسکر یافتہ فلم کے کارکن اسرائیلی آباد کار کے ہاتھوں قتل
اگرچہ اسرائیلی فوج نے ذمہ داری سے انکار کیا، لندن کی تحقیقاتی تنظیم Forensic Architecture کے مطابق ہند کی کار پر سیکڑوں گولیاں چلائی گئیں اور ایک اسرائیلی ٹینک بھی قریب دیکھا گیا تھا۔ فلم ستمبر 2025 میں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پہلی بار پیش کی گئی تھی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Forensic Architecture Hind Rajab The Voice of Hind Rajab آسکر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔