مغربی کنارے میں اطالوی اہلکاروں کو اسلحے کے زور پر روکنے پر اٹلی کا اسرائیلی سفیر کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
روم: اٹلی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل کے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔
اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق دو اطالوی فوجی پولیس اہلکاروں کو فیلڈ وزٹ کے دوران ایک مسلح اسرائیلی نے اسلحے کے زور پر روکا اور دھمکایا۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز رام اللہ کے قریب ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں اطالوی اہلکار یورپی یونین کے سفیروں کے مجوزہ دورے سے قبل مقام کا معائنہ کر رہے تھے۔
ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مسلح شخص، جسے ایک اسرائیلی آبادکار سمجھا جا رہا ہے، نے دونوں اطالوی اہلکاروں کو گن پوائنٹ پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ان سے غیر رسمی تفتیش کی۔
اطالوی حکام کے مطابق اہلکار ایک ایسی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس پر سفارتی نمبر پلیٹس لگی تھیں اور ان کے پاس سفارتی پاسپورٹس بھی موجود تھے۔
واقعے کے بعد اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کی ہدایت پر روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیا گیا تاکہ اس واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔