قائمہ کمیٹی اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر بحث، اسکروٹنی اور انتخابات پر بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر گرما گرم بحث ہوئی جب کہ اجلاس میں اسکروٹنی اور انتخابات سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین شیخ آفتاب کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں گزشتہ اجلاس کے میٹنگ منٹس کی متفقہ طور پر توثیق کی گئی۔ اجلاس کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جب کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اشتراک سے اسکروٹنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیئرمین پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اجلاس کو بتایا کہ اسکروٹنی کمیٹی ہاکی کلبوں کے لیے معیار طے کرے گی اور ان کی مارکنگ کرے گی۔ اجلاس میں ہاکی کلبوں کے کھلاڑیوں کی ڈیٹا میچنگ لازمی قرار دی گئی جب کہ ہر کلب میں صدر اور سیکریٹری کا ہونا ضروری ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہاکی کلبوں کے لیے رجسٹریشن دستاویزات اور گراؤنڈ کی تفصیلات فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا۔ چیئرمین پی ایس بی کے مطابق کلب اسکروٹنی کمیٹی نے ابتدائی سفارشات مرتب کر لی ہیں اور تمام ہاکی کلبوں کی رجسٹریشن کے لیے ایک آن لائن پورٹل قائم کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 1100 ہاکی کلب موجود ہیں جن کی طے شدہ معیار کے تحت اسکروٹنی کی جائے گی۔ ابتدائی مرحلے میں صرف اسلام آباد کے ہاکی کلبوں کو طلب کیا گیا ہے جب کہ اسکروٹنی مکمل ہوتے ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کروائے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا کہ طارق بگٹی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے منتخب صدر نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات جلد از جلد کروائے جانے چاہییں۔
انہوں نے چیئرمین پی ایس بی کی جانب سے ماضی میں ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلے کو دودھ کی نگرانی پر رکھا جا رہا ہے۔ الیکٹڈ باڈی کے خلاف ایک اور باڈی بنائی گئی ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے۔
شہلا رضا نے مزید کہا کہ طارق بگٹی صاحب لاڈلے بنے ہوئے ہیں، ان انتخابات کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی غیر قانونی قرار دیا جب کہ مالی بے ضابطگیاں اور بدانتظامی بھی ہو رہی ہیں۔
اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ بات بار بار دہرائی جا رہی ہے اور اگر کسی بات کو بار بار دہرایا جائے تو وہ لطیفہ لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی بولنے کا موقع دیا جائے، میٹنگ صرف ایک شخص کے لیے نہیں ہو رہی ، ہم ایک ہی بات بار بار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ کچھ معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ہیں، وہ انہیں کرنے دیے جائیں۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ افسانہ بنایا گیا کہ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن جعلی ہے، اگر وزیراعظم نے اس کی تعیناتی کی ہے تو وہ درست ہے ۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ایک پرائیویٹ کمپنی کی وکالت کی جا رہی ہے۔
شہلا رضا نے خواجہ اظہار الحسن کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لطیفے کو سب لطیفہ ہی لگتا ہے ۔ ہم قانون کے مطابق چلیں گے چاہے جتنا مرضی خرچنا اور کریدنا پڑے۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کہا کہ ہر بندے کو بولنے کا موقع دیا جائے، دو بندے ہی کیوں بولتے رہیں، کیا ہم سب بیکار ہیں۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین بھٹو نے چیئرمین پاکستان اسپورٹس بورڈ سے سوال کیا کہ اس وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ اس پر چیئرمین پی ایس بی نے جواب دیا کہ پاکستان میں ایک ہی ہاکی فیڈریشن ہے جو پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ساتھ افیلیئٹڈ ہے اور یہی فیڈریشن ایف آئی ایچ کے ساتھ بھی ایفیلیئٹڈ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اٹارنی جنرل کی رپورٹ میں بھی صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا تھا جب کہ سیکریٹری کے حوالے سے اس رپورٹ میں کوئی سوال ہی نہیں اٹھایا گیا تھا۔
سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے حکم کو ہاکی فیڈریشن نے تسلیم کیا۔پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ساتھ مل کر ہاکی کلبوں کی اسکروٹنی کروائیں گے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہاکی کلبوں کی اسکروٹنی ہو۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہاکی کلب ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے۔
ڈی جی پی ایس بی رکن کمیٹی عقیل انجم خان نے کہا کہ فیئر انتخابات ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ اس موقع پر ڈی جی پی ایس بی نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ بھی کلبوں کی فیئر اسکروٹنی کروائے گا۔ چیئرمین کمیٹی شیخ آفتاب احمد کا کہنا تھا کہ کراس ٹاک نہ کی جائے یہ کوئی مچھلی منڈی نہیں۔
بعد ازاں کمیٹی نے ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر سب کمیٹی تشکیل دے کر مہرین بھٹو کو کنوینر مقرر کردیا جب کہ انجم عقیل اور خواجہ اظہار الحسن ممبران ہوں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاکستان اسپورٹس بورڈ خواجہ اظہار الحسن قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی کہ پاکستان ہاکی کلبوں اجلاس میں پی ایس بی نے کہا کہ کلبوں کی ہاکی کلب انہوں نے اجلاس کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔