اسلام آباد:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوباٸی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات، اسکروٹنی اور کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے معاملے پر ارکان اسمبلی  کے درمیان گرما گرمی ہوگئی۔

شیخ آفتاب کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں  ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ، سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد، اولمپین شہباز سینئر، سمیع اللہ،  شہناز شیخ نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ارکان قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن اور شہلا رضا کے درمیان شدید گرما گرمی ہوٸی۔

خواجہ اظہار الحسن نے الزام عائد کیا کہ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی ایک کراچی کی نجی کمپنی کی نمائندگی کر رہی ہیں حالانکہ کسی ایم این اے کو نجی کمپنی کی حمایت یا نمائندگی کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی، وہ اسی کمپنی کے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور یہ معاملہ ایک ایسوسی ایشن اور نجی کمپنی کے درمیان تنازع ہے۔

خواجہ اظہار الحسن نے مزید کہا کہ کراچی ہاکی ایسوسی ایشن نجی کمپنی ایکٹ کے تحت قائم کی گئی ہے اور اگر چاہیں تو اسی قانون کے تحت الگ فیڈریشن بنا لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور اسپورٹس بورڈ کو واضح مینڈیٹ دیا ہے۔

اس موقع پر شہلا رضا نے موقف اختیار کیا کہ طارق بگٹی کو فیڈریشن کے انتخابات کرانے کا اختیار دیا گیا تھا لیکن وہ انتخابات کروانے کے بجائے خود صدر بن گئے جبکہ من پسند ہاکی کلبز رجسٹر کیے گئے ہیں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ نے بتایا کہ پی ایچ ایف کی جانب سے 1100 ہاکی کلبز کو پورٹل پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ اسکروٹنی کے آغاز پر 19 اضلاع ایسے تھے جہاں صرف پانچ ہاکی کلب موجود تھے جبکہ اسلام آباد میں کوئی بھی ہاکی کلب ایسا نہیں تھا جو تمام قواعد پر پورا اترتا ہو۔ اسپورٹس بورڈ بھی کلبز کی منصفانہ سکروٹنی کرائے گا۔

اجلاس میں مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو نہیں سننا چاہتیں جس پر خواجہ اظہار الحسن نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جماعت کا اجلاس نہیں اور اگر کوئی فیڈریشن کو نہیں سننا چاہتا تو اجلاس چھوڑ سکتا ہے، تاہم وہ خود فیڈریشن کو سنیں گے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی شیخ آفتاب احمد نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی مچھلی منڈی نہیں، قائمہ کمیٹی کے وقار کا خیال رکھا جائے۔ سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے احکامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ساتھ مل کر ہاکی کلبز کی سکروٹنی کروائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف، ہاکی کلب ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے۔ رکن کمیٹی عقیل انجم خان نے کہا کہ شفاف اور فیئر انتخابات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں۔

قاٸمہ کمیٹی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس کی کنوینر مہرین بھٹو ہوں گی جبکہ انجم عقیل اور خواجہ اظہار الحسن اس کے ممبران ہوں گے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ میں شفاف انتخابات کرانے کیلئے تین رکنی سب کمیٹی تشکیل دیدی گٸی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاکستان ہاکی فیڈریشن پاکستان اسپورٹس بورڈ خواجہ اظہار الحسن قائمہ کمیٹی فیڈریشن کے کہا کہ

پڑھیں:

بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟

میں مشہور ٹرانس جینڈر تلسی بٹ کی پوڈ کاسٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ بڑا مظلوم طبقہ ہے جسے ہر جگہ پھٹکار ملتی ہے، دیگر خواجہ سراؤں کی طرح تلسی بھی کم عمری ہی میں گھر سے نکال دی گئی تھی، نو سال کی ننھی سی عمر میں اس کے والد نے اسے کسی خواجہ سرا کے سپرد کر دیا تھا، پھر وہ گیارہ سال کی عمر میں اپنے گھر واپس آئی تو لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتیاں کیں، تلسی کے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، تلسی نے بہت پیسہ کمایا، وہ ایک نامور اور مشہور اسٹیج ڈانسر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو رشتے خریدنے پڑتے ہیں، ورنہ ان کا سگا خون انھیں منہ نہیں لگاتا۔ پیدا کرنے والی ماں اجنبی بن جاتی ہے، تلسی نے بھی اپنے بھائیوں کو کاروبار کرایا، بہنوں کی شادیاں کیں، لیکن اس کی زخمی روح کو کوئی نہ سمجھ سکا۔ مجھے ٹرانس جینڈر سے ہمیشہ سے ہمدردی ہے، یہ راندۂ درگاہ لوگ بڑی اذیت بھری زندگی گزارتے ہیں، انھیں بھی خدا نے ہی پیدا کیا ہے، ان کی شخصیت میں جو نقص ہے وہ خدا کی طرف سے ہے، مغربی ممالک اور امریکا میں ان سے کوئی نفرت نہیں کرتا، بلکہ انھیں باعزت پیشوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔

وہ میک اپ آرٹسٹ بنتے ہیں، فیشن ڈیزائنر بنتے ہیں اور عزت کی روٹی کھاتے ہیں جب کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں انھیں نہایت کم تر سمجھا جاتا ہے، انھیں نہ دفتروں میں ملازمت ملتی ہے نہ کہیں روزگار ملتا ہے، اسی لیے شام ہوتے ہی ان کے جھنڈ کے جھنڈ ٹریفک سگنلوں پہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ جسم فروشی بھی کرتے ہیں کہ پیٹ تو کسی نہ کسی طرح بھرنا ہی ہوتا ہے، ان کے دل پر لگے زخم کسی کو نظر نہیں آتے، انڈیا میں ٹرانس جینڈر پر کئی فلمیں بنی ہیں، جیسے ’’تمنا‘‘ جس میں پاریش راول نے خواجہ سرا کا رول کیا ہے اور پوجا بھٹ نے ایک لاوارث لڑکی کا جس کا باپ صرف لڑکوں کو جینے کا حق دیتا ہے، لڑکیوں کو نہیں۔ اس لیے اس کی بیوی ایک نوزائیدہ بچی کو کچرے دان میں ڈال دیتی ہے، لیکن پاریش راول اسے سینے سے لگا لیتا ہے اور اس کی اچھی پرورش کرتا ہے۔

دوسری فلم جو ہمیں پسند آئی تھی وہ تھی ’’شبنم‘‘، جو بھارت کی پہلی خواجہ سرا سیاست دان ’’ شبنم ماسی‘‘ کی حقیقی زندگی پر بنائی گئی تھی اور شبنم کا رول کیا تھا آشتوس رانا نے، ان کے علاوہ ’’لکشمی‘‘ ،’’ چندی گڑھ کرے عاشقی‘‘، ’’سنگھرش‘‘، ’’مرڈر2‘‘ سرفہرست ہیں۔ ایک اور فلم مجھے بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’درمیان‘‘ جس میں کرن کھیر نے زینت بیگم کا لازوال کردار ادا کیا تھا اور اس کا بیٹا جوکہ خواجہ سرا تھا اس کا رول عارف ذکریا نے ادا کیا تھا اور بہت خوب کیا تھا، وہ اپنی ماں کا میک اپ مین بن جاتا ہے، ایک اور فلم جو مجھے اور میرے شریک حیات کو بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’سرداری بیگم‘‘ اس فلم میں بھی سرداری بیگم کا کردار کرن کھیر نے نبھایا تھا۔ پہلے انڈیا میں ہر سنیچر کو ایک آرٹ مووی ریلیز ہوتی تھی، جو فوراً پاکستان آ جاتی تھی۔ ہم دونوں آرٹ مووی شوق سے دیکھتے تھے، لیکن بعد میں وہاں بھی سب کچھ الٹ پلٹ گیا، اب وہاں بھی بے تکی اور جذبات ابھارنے والی فلمیں بنتی ہیں، لیکن پھر بھی سنجے لیلا بھنسالی کوئی نہ کوئی بہترین فلم پیش کر دیتے ہیں۔

تلسی بٹ کا انٹرویو دیکھ کر مجھے ایک پرانا اور مظلوم کردار یاد آگیا جس کا نام مسعود تھا، شاید میرا ہی ہم عمر تھا، یہی کوئی دس بارہ سال کا گورا رنگ، گلابی ہونٹ اور بڑی بڑی آنکھیں، اس وقت طارق روڈ پر شاپنگ مالز کا جنگل آباد نہیں ہوا تھا، دس بارہ گھر تھے بلاک 2 میں، چھت پر کھڑے ہو کر سارا منظر صاف نظر آتا تھا، مسعود کا سامنے کی لین میں تیسرا گھر تھا، اچھے لوگ تھے، جب کبھی کوئی نذر نیاز ہوتی تو مسعود ہی تمام گھروں میں نیاز لے کر آتا تھا، وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ہمارے گھر سے اگر کہیں نیاز بھیجنی ہوتی تو ہمارے ملازم غازی اور شیر دل لے کر جاتے تھے، دونوں کی دوستی مسعود سے ہو گئی تھی، ایک دن ایسا ہوا کہ مسعود روتا ہوا ہمارے گھر آیا، والدہ اور والد نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ باپ نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، اس کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، اس لیے وہ یہاں آ گیا۔

وہ مسلسل رو رہا تھا اور گھر سے نکالنے کی وجہ نہ بتا پا رہا تھا۔ میرے والد اور والدہ اسے لے کر اس کے گھر پہنچے تو انکشاف ہوا کہ مسعود خواجہ سرا ہے، اسے اسکول والوں نے بھی نکال دیا ہے، سب کو پتا چل گیا ہے کہ معاملہ کیا ہے، اس کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، اگر انھوں نے مسعود کو گھر میں رکھا تو بہنوں کے رشتے نہیں آئیں گے، والدہ البتہ رو رہی تھیں لیکن اسے رکھنے سے قاصر تھیں۔ میرے والدین نے انھیں بہت سمجھایا کہ اس میں مسعود کا کیا قصور ہے، لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور اسے چند ہزار روپے دے کر کہا کہ وہ بس میں بیٹھ کر رنچھوڑ لین چلا جائے اور وہاں کسی سے پتا کرے کہ خواجہ سرا کہاں رہتے ہیں؟ میرے والدین مسعود کو گھر لے آئے اور اس کو کہا کہ وہ اب یہیں رہے، ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد والد مان جائیں، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ ہوا یوں کہ اس کے گھر والے اپنی کوٹھی کرائے پر دے کر کہیں اور چلے گئے، مسعود اس دن پھوٹ پھوٹ کے رویا، اب وہ ہمارے گھر کا فرد بن گیا، اسکول وہ جا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہاں بچے اور ٹیچر اس کا مذاق اڑاتے تھے، لہٰذا مجھے جو ٹیچر پڑھانے آتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ مسعود کو نویں جماعت کی تیاری کروائیں۔

انھوں نے پہلے آٹھویں جماعت کا کورس اسے پڑھایا، پھر نویں کی تیاری کروانے لگے۔ میری والدہ نے مسعود سے کہا کہ وہ کوئی ہنر سیکھ لے تاکہ زندگی میں کام آئے۔ جب اس نے آمادگی ظاہر کی تو والدہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے کھانا پکانا سکھانے لگیں۔ نویں جماعت کا امتحان دے کر وہ فارغ تھا، اس لیے اس نے بڑی جانفشانی سے کھانا پکانا اور ڈائننگ ٹیبل پہ سرو کرنا سب کچھ سیکھ لیا۔ وہ ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتا، والد، والدہ، دادی اور میرے دونوں بڑے بھائی اس کا بہت خیال رکھتے تھے تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے۔

کافی وقت گزر چکا تھا لیکن مسعود عید بقر عید پہ بہت اداس ہو جاتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور اس عرصے میں 1966 میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ چند ماہ بعد ہی میری سگی دادی اور رشتے کی پھوپھی نے میرے والد کی دوسری شادی کروا دی، اس عورت کی آنکھ میں مسعود کھٹکتا تھا، ہمارے پرانے ملازم غازی اور شیر خان واپس کوہاٹ چلے گئے کیونکہ والد کی دوسری بیوی کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔

وہ میری والدہ کو بہت یاد کیا کرتے تھے، چونکہ مسعود کو کھانا پکانا میری والدہ نے سکھا دیا تھا، وہ قورمہ، حلیم، بریانی، آلو گوشت، شلجم گوشت، نہاری، شب دیگ اور دم کا قیمہ بنانا سیکھ گیا تھا، لیکن کھانا والدہ خود پکاتی تھیں، کیونکہ میرے والد کو صرف امی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا، اب اس خاتون نے آرڈر جاری کر دیا کہ کھانا مسعود پکائے گا، وہ مہارانی بن کر بیٹھتی تھیں۔ اس عرصے میں والد صاحب نے مسعود کو ایک جاننے والے کے ورکشاپ میں لگوا دیا جہاں وہ گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھ رہا تھا، اس نے پرائیویٹ میٹرک اور انٹر کیا اور گیراج میں بھی خوب محنت سے کام کیا۔

میرے والد کے کئی دوست یوکے میں تھے، انھوں نے انھیں خط لکھا اور اس میں مسعود کی پوری کہانی لکھ دی، وہاں سے منصور صاحب کا پازیٹو جواب آ گیا، تب والد صاحب نے مسعود کو سارے حالات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسعود ان کی زندگی میں سیٹ ہو جائے جو مسئلہ اس کے ساتھ تھا، اس میں یہی بہتر تھا کہ وہ پاکستان سے باہر چلا جائے۔ ایک ماہ بعد مسعود برطانیہ چلا گیا، جاتے وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، پھر امی کی قبر پہ گیا اور ایک دن چلا گیا اپنا مستقبل بنانے۔

منصور صاحب اور ان کی بیگم نے اس کا بہت خیال رکھا، چونکہ اسے بہترین کھانا پکانا آتا تھا، اس لیے ایک سردار جی کے ہوٹل میں جاب مل گئی، پھر کچھ عرصے بعد ان سردار جی نے مسعود کو ہوٹل میں رہائش بھی دے دی۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے لوگوں کو بہت پسند آنے لگے، خاص کر آلو گوشت اور چنے کی دال گوشت کے علاوہ اسے یخنی پلاؤ بھی بہترین پکانا آتا تھا۔ سردار جی کی انکم اتنی بڑھی کہ انھوں نے دوسرا ہوٹل بھی کھول لیا، مسعود گوروں کے لیے ہر چیز ہلکی مرچوں کی بناتا تھا، اور دیسی لوگوں کے لیے خوب چٹخارے دار۔ مسعود اکثر والد کو خط لکھتا تھا اور کہتا تھا کہ ان کا فیصلہ بالکل درست تھا، یوکے میں اس کا ٹرانس جینڈر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ وہ بہت خوش تھا، ایک دن ہمارے گھر ایک صاحبہ آئیں، بھابیاں تو پہچانتی نہیں تھیں لہٰذا انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر والد صاحب کو اطلاع دی گئی، وہ مسعود کی والدہ تھیں۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، وہ مسعود سے ملنا چاہتی تھیں اور اپنے کیے پر شرمندہ تھیں۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف