اسلام آباد کو بیوروکریسی کا غلام بنا دیا گیا‘نصراللہ رندھاوا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہاہے کہ اسلام آباد کو بیوروکریسی کا غلام بنا دیا گیا ہے،منگل کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف کیس میں وفاق اورالیکشن کمیشن نے اپناجواب جمع کرانا تھامگر جج کے چھٹی کی وجہ سے کاز لسٹ منسوخ کردی گئی یہ کیس فوری نوعیت کا تھا، عوام کومنگل کو کی سماعت سے بڑی توقعات تھیں، عوام کو مایوسی ہوئی۔ان خیالات کااظہارامیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ اسلام آباد کے سارے مسائل کی جڑ بلدیاتی انتخابات کا نہ ہو نا ہے،اسلام آباد کو طویل عرصے سے جمہوری حق سے محروم کیا جا رہا ہے،پانچ سال سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے،چار بار بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر کے انہیں ملتوی کیا گیا،15 فروری 2026 کو شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات ہونا تھے، جنوری میں نیا صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا،نئے آرڈیننس میں اسلام آباد کے چار ٹانز بنا دیئے گئے، ایڈمنسٹریٹر کو میئر کے تمام اختیارات دے دئے گئے، بلدیاتی انتخابات کوغیر جماعتی کر دیا گیا۔نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ غیر جماعتی انتخابات کا مقصد منتخب نمائندوں کی منڈی لگانا ہے،12 جنوری کو آرڈیننس آیااور دودن بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، ہم نے 16 جنوری کوآرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،16 جنوری کو ہی الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کیا، 17 جنوری کو ہم نے الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن بھی چیلنج کیا، آج وفاق اورالیکشن کمیشن نے اپناجواب جمع کرانا تھا،آج جب عدالت گئے تو کاذ لسٹ کینسل ہو چکی تھی کیونکہ جج صاحب چھٹی پر تھے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کیس فوری نوعیت کا تھا، عوام کوآج کی سماعت سے بڑی توقعات تھیں، عوام کو مایوسی ہوئی۔ نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ آئین پاکستان کے تحت بلدیاتی انتخابات حکومت کی ذمے داری ہے،الیکشن نہ کرانا آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے،الیکشن کا انعقاد نہ ہوناسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے، اسلام آباد کے عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کیا جا رہا ہے،جب الیکشن کا شیڈول جاری ہو جائے توکوئی بھی نیا آرڈیننس اس نہیں آسکتا، نئی ترمیم یا آرڈیننس شیڈول شدہ الیکشن پرلاگو نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن حکومت پاکستان کا سہولتکار بنا ہواہے۔نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ اسلام آباداس وقت بے شمارمسائل میں گھراہواہے، منتخب نمائندے ہی عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، بیوروکریٹس افسر شاہی کا حصہ ہیں، اسلام آباد سے جمع ہونے والے ٹیکس پر یہاں کے عوام کا حق ہے، اسلام آباد کو بیوروکریسی کا غلام بنا دیا گیا ہے،یہ اپنے پاس اختیارات رکھنا چاہتے ہیں، جب حکومت کو ہارنظرآتی ہے توالیکشن ملتوی کر دیتی ہے،الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ 15 فروری کواسلام آبادمیں الیکش کرائے،اسلام آباد ہائیکورٹ بھی الیکشن کمیشن کو حکم دے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق الیکشن کرائے، 15 فروری کے الیکشن کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات اسلام ا باد کے اسلام ا باد کو الیکشن کمیشن جنوری کو ا رڈیننس عوام کو دیا گیا
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔