data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہاہے کہ اسلام آباد کو بیوروکریسی کا غلام بنا دیا گیا ہے،منگل کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف کیس میں وفاق اورالیکشن کمیشن نے اپناجواب جمع کرانا تھامگر جج کے چھٹی کی وجہ سے کاز لسٹ منسوخ کردی گئی یہ کیس فوری نوعیت کا تھا، عوام کومنگل کو کی سماعت سے بڑی توقعات تھیں، عوام کو مایوسی ہوئی۔ان خیالات کااظہارامیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ اسلام آباد کے سارے مسائل کی جڑ بلدیاتی انتخابات کا نہ ہو نا ہے،اسلام آباد کو طویل عرصے سے جمہوری حق سے محروم کیا جا رہا ہے،پانچ سال سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے،چار بار بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر کے انہیں ملتوی کیا گیا،15 فروری 2026 کو شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات ہونا تھے، جنوری میں نیا صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا،نئے آرڈیننس میں اسلام آباد کے چار ٹانز بنا دیئے گئے، ایڈمنسٹریٹر کو میئر کے تمام اختیارات دے دئے گئے، بلدیاتی انتخابات کوغیر جماعتی کر دیا گیا۔نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ غیر جماعتی انتخابات کا مقصد منتخب نمائندوں کی منڈی لگانا ہے،12 جنوری کو آرڈیننس آیااور دودن بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، ہم نے 16 جنوری کوآرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،16 جنوری کو ہی الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کیا، 17 جنوری کو ہم نے الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن بھی چیلنج کیا، آج وفاق اورالیکشن کمیشن نے اپناجواب جمع کرانا تھا،آج جب عدالت گئے تو کاذ لسٹ کینسل ہو چکی تھی کیونکہ جج صاحب چھٹی پر تھے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کیس فوری نوعیت کا تھا، عوام کوآج کی سماعت سے بڑی توقعات تھیں، عوام کو مایوسی ہوئی۔ نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ آئین پاکستان کے تحت بلدیاتی انتخابات حکومت کی ذمے داری ہے،الیکشن نہ کرانا آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے،الیکشن کا انعقاد نہ ہوناسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے، اسلام آباد کے عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کیا جا رہا ہے،جب الیکشن کا شیڈول جاری ہو جائے توکوئی بھی نیا آرڈیننس اس نہیں آسکتا، نئی ترمیم یا آرڈیننس شیڈول شدہ الیکشن پرلاگو نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن حکومت پاکستان کا سہولتکار بنا ہواہے۔نصراللہ رندھاوا نے کہاکہ اسلام آباداس وقت بے شمارمسائل میں گھراہواہے، منتخب نمائندے ہی عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، بیوروکریٹس افسر شاہی کا حصہ ہیں، اسلام آباد سے جمع ہونے والے ٹیکس پر یہاں کے عوام کا حق ہے، اسلام آباد کو بیوروکریسی کا غلام بنا دیا گیا ہے،یہ اپنے پاس اختیارات رکھنا چاہتے ہیں، جب حکومت کو ہارنظرآتی ہے توالیکشن ملتوی کر دیتی ہے،الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ 15 فروری کواسلام آبادمیں الیکش کرائے،اسلام آباد ہائیکورٹ بھی الیکشن کمیشن کو حکم دے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق الیکشن کرائے، 15 فروری کے الیکشن کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات اسلام ا باد کے اسلام ا باد کو الیکشن کمیشن جنوری کو ا رڈیننس عوام کو دیا گیا

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن