اسلام آباد میں ناکہ بندی، قائمہ کمیٹی اراکین پھٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جگہ جگہ ناکہ بندی کے خلاف کمیٹی اراکین پھٹ پڑے۔
اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک محمد ہارون اور سی ٹی او ٹریفک پولیس حمزہ ہمایوں نے کمیٹی کو بریفنگ دی جبکہ چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے ٹریفک حکام کی سرزنش کی۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کمیٹی کو بتایا کہ روزانہ 3 سے 4 لاکھ گاڑیاں اسلام آباد میں داخل ہوتی ہیں، کچہری چوک بند ہے، ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ٹریفک جام بڑھ گیا، ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نوازنے سوال کیا کہ ہم نے آئی جی اسلام آباد کو یہاں طلب کیا تھا وہ کیوں نہیں آئے؟ آپ نے ہر جگہ ناکے کیوں لگائے ہیں؟ ٹریفک جام ہے، ہر جگہ لوگوں کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے، میں خود ایک جگہ افتتاح کے لیے گیا تھا، واپسی پر 2 گھنٹے ذلیل ہوا ہوں، 1960ء سے اسلام آباد میں ہیں، پہلے کبھی ہر جگہ ناکے نظر نہیں آئے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے جواب دیا کہ ہم مختلف مقامات پر ڈیجیٹل سیٹ اپ انسٹال کر رہے ہیں، جس کے باعث گاڑیوں کو روکنا نہیں پڑے گا، کچھ عرصے میں چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے شہر میں بدترین ٹریفک جام، لوگ اذیت میں مبتلا، اسلام آباد کے کئی مقامات پر بھی روانی متاثرڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ پچھلے ایک سے ڈیڑھ سال سے لوگ اسلام آباد میں ذہنی مریض بن گئے ہیں، یہاں 17 لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، اگلے 2 سے 3 ماہ میں ٹریفک کے حوالے سے چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے سوال اٹھایا کہ جب آپ نے داخلی راستوں پر کیمرے لگائے ہیں تو پولیس اہلکار لوگوں کی شکلوں پر کیوں ٹارچ مارتے ہیں؟ آپ کے پولیس اہلکاروں کو تمیز نہیں ہے؟ فیملی کے ساتھ آ رہا تھا، پولیس اہلکار نے اتنی تیز لائٹ میرے منہ پر ماری، آپ نے میری شکل سے کیا نکالنا ہے؟ نمبر پلیٹ پر لائٹ ماریں۔
ٹریفک جام کے خلاف ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بھی شدید برہم ہوتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ ناکے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ سر آپ تو ہمارے ساتھ ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ایڈیشنل سیکریٹری سے پہلے ایک شہری ہوں، شاہراہِ دستور پر ناکے کا کیا کام ہے؟ گاڑیوں کو روک کر پولیس والا پوچھ گچھ کر رہا ہوتا ہے، پیچھے 100 گاڑی لگ جاتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نوازنے کہا کہ اصل میں وہ پولیس والا مک مکا کر رہا ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیئرمین کمیٹی راجہ خرم ڈی ا ئی جی ٹریفک نے اسلام ا باد میں ٹریفک جام نے کہا کہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔