پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-08-21
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی سربراہی میں شروع ہوا، کمیٹی ممبران نے متفقہ طور پر نوید قمر کو اجلاس کی صدارت کے لیے تجویز کیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں گزشتہ روز وزارت پیٹرولیم کے 20 ارب روپے سے زاید کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچائے جانے کے انکشاف پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی وصول نہ کرنے کی ایک لمبی فہرست ہے۔ڈی جی آئل کی جانب سے پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ انفورسمنٹ میکانزم موجود نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے یعنی جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا، اتنے اہم سیکٹر میں ٹیکسیشن کا نظام کیسے چلایا جا رہا ہے؟شازیہ مری نے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی جاتی ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے حاصل کر کے حکومت کو ادائیگی نہیں کی جاتی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو قانون سازی میں بہتری کی سفارش کر دی۔اجلاس کے دوران، سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانے کی مد میں 14 ارب 63 کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کا انکشاف بھی ہوا۔چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ تو بہت پرانا کیس ہے، اب تک کتنی ریکوری کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اب تک صرف 19 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ حیسکول کی جانب سے رقم ادا کی گئی تھی لیکن غلط اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اکاؤنٹ اب کلوز ہو چکا ہے، ریکارڈ میں درستگی نہیں ہو سکتی۔پی اے سی نے حیسکول کی حد تک آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو 48 اقساط میں چار سال کے دوران 47 ارب روپے ادا کرے گی، سنرجی کو 21 ارب روپے کا لیٹ پیمنٹ سرچارج بھی ادا کرے گی اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کی ادائیگی کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ ڈیل ایس آئی ایف سی نے کروائی ہے۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو نے اقساط کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔پی اے سی نے لیٹ پیمنٹ سرچارج کے حوالے سے دو ہفتوں میں سیکرٹری پیٹرولیم سے جواب طلب کر لیا۔پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تکنیکی ڈیٹا کی فروخت سے حاصل ہونے والے 1 ارب روپے کو استعمال نہ کرنے کا آڈٹ پیرا کا جائزہ ہوا۔ آڈٹ حکام کا مؤقف تھا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے یہ فنڈز غیر مجاز اکاؤنٹ میں رکھے۔چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ جہاں پیسہ رکھا جانا چاہیے تھا وہاں نہیں رکھا گیا۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ قواعد بننے کے فوری بعد رقم مجاز اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔پی اے سی نے استفسار کیا کہ قومی خزانے کے بجائے کمرشل بینک میں پیسے کیوں رکھے گئے؟ پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بتایا کہ یہ کمرشل اکاؤنٹ بھی فنانس ڈویژن کی اجازت سے کھلا تھا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پیسہ کمرشل بینک میں رکھنے میں بھی کسی کا مفاد پوشیدہ تھا۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے اجازت کے بغیر رقم کمرشل اکاؤنٹ میں رکھنے کو غلطی تسلیم کر لیا۔سید نوید قمر نے کہا کہ فنانس ڈویژن کی تنبیہ کے باوجود 2017ء سے 2026ء تک رقم کمرشل بینک اکاؤنٹ میں رکھا گیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتے میں ذمے داری عائد کرنے اور ایک روز میں تمام رقم نیشنل بینک سے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔پی اے سی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پیٹرولیم کمپنیوں سے لیوی کی وصولی کے قانون اور طریقہ کار کو سخت اور مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکرٹری پیٹرولیم نے پبلک اکاو نٹس کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ پیٹرولیم ڈویژن پیٹرولیم لیوی چیئرمین کمیٹی اکاو نٹ میں نے بتایا کہ پی اے سی نے کی جانب سے کمیٹی نے سنرجی کو ارب روپے روپے کا
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ