data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-08-21
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی سربراہی میں شروع ہوا، کمیٹی ممبران نے متفقہ طور پر نوید قمر کو اجلاس کی صدارت کے لیے تجویز کیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں گزشتہ روز وزارت پیٹرولیم کے 20 ارب روپے سے زاید کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچائے جانے کے انکشاف پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی وصول نہ کرنے کی ایک لمبی فہرست ہے۔ڈی جی آئل کی جانب سے پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ انفورسمنٹ میکانزم موجود نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے یعنی جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا، اتنے اہم سیکٹر میں ٹیکسیشن کا نظام کیسے چلایا جا رہا ہے؟شازیہ مری نے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی جاتی ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے حاصل کر کے حکومت کو ادائیگی نہیں کی جاتی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو قانون سازی میں بہتری کی سفارش کر دی۔اجلاس کے دوران، سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانے کی مد میں 14 ارب 63 کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کا انکشاف بھی ہوا۔چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ تو بہت پرانا کیس ہے، اب تک کتنی ریکوری کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اب تک صرف 19 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ حیسکول کی جانب سے رقم ادا کی گئی تھی لیکن غلط اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اکاؤنٹ اب کلوز ہو چکا ہے، ریکارڈ میں درستگی نہیں ہو سکتی۔پی اے سی نے حیسکول کی حد تک آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو 48 اقساط میں چار سال کے دوران 47 ارب روپے ادا کرے گی، سنرجی کو 21 ارب روپے کا لیٹ پیمنٹ سرچارج بھی ادا کرے گی اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کی ادائیگی کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ ڈیل ایس آئی ایف سی نے کروائی ہے۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو نے اقساط کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔پی اے سی نے لیٹ پیمنٹ سرچارج کے حوالے سے دو ہفتوں میں سیکرٹری پیٹرولیم سے جواب طلب کر لیا۔پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تکنیکی ڈیٹا کی فروخت سے حاصل ہونے والے 1 ارب روپے کو استعمال نہ کرنے کا آڈٹ پیرا کا جائزہ ہوا۔ آڈٹ حکام کا مؤقف تھا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے یہ فنڈز غیر مجاز اکاؤنٹ میں رکھے۔چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ جہاں پیسہ رکھا جانا چاہیے تھا وہاں نہیں رکھا گیا۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ قواعد بننے کے فوری بعد رقم مجاز اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔پی اے سی نے استفسار کیا کہ قومی خزانے کے بجائے کمرشل بینک میں پیسے کیوں رکھے گئے؟ پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بتایا کہ یہ کمرشل اکاؤنٹ بھی فنانس ڈویژن کی اجازت سے کھلا تھا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پیسہ کمرشل بینک میں رکھنے میں بھی کسی کا مفاد پوشیدہ تھا۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے اجازت کے بغیر رقم کمرشل اکاؤنٹ میں رکھنے کو غلطی تسلیم کر لیا۔سید نوید قمر نے کہا کہ فنانس ڈویژن کی تنبیہ کے باوجود 2017ء سے 2026ء تک رقم کمرشل بینک اکاؤنٹ میں رکھا گیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتے میں ذمے داری عائد کرنے اور ایک روز میں تمام رقم نیشنل بینک سے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔پی اے سی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پیٹرولیم کمپنیوں سے لیوی کی وصولی کے قانون اور طریقہ کار کو سخت اور مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کردی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکرٹری پیٹرولیم نے پبلک اکاو نٹس کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ پیٹرولیم ڈویژن پیٹرولیم لیوی چیئرمین کمیٹی اکاو نٹ میں نے بتایا کہ پی اے سی نے کی جانب سے کمیٹی نے سنرجی کو ارب روپے روپے کا

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟