سلامتی کونسل:جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے‘ پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-08-24
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے۔پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن و انصاف اور اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔عاصم افتخار نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یا مصلحت کے آگے جھکے گا تو عدم استحکام گہرا ہوگا، تنازعات مزید جڑ پکڑ لیتے ہیں اور پر امن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کرتی ہیں، پاکستان نے خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے، بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرکے جارحیت کا ارتکاب کیا۔مستقل مندوب نے خطاب کرتے کہا کہ پاکستان نے حق دفاع کو ذمے دارانہ محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا، پاکستانی ردعمل نے واضح کردیا جبر کسی طور پر قبول نہیں، ریاستوں کے مابین واحد معیار بین الاقوامی قانون کا احترام ہے۔عاصم افتخار نے کہا کہ جبر یا استثنا سے جنم لینے والا جو کوئی بھی نیا معمول ہو وہ قابل قبول نہیں، کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھنا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھارت کشمیریوں پر مظالم کرکے پائیدار امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، یکطرفہ بھارتی اقدام خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔مستقبل مندوب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پانی اور دیگر قدرتی و سائل کو ہتھیار بنانے کے تصور کو مسترد کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلامتی کو نے کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :