وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس درست قرار دیدیا‘ ہائیکورٹس کے فیصلے جزوی کالعدم
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹس کے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم کر دیے اور سپر ٹیکس برقرار رکھا ہے۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے سپرٹیکس کیس میں مختصر فیصلہ سنایا، کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ نے کی۔وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کر دیے گئے، ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن4 بی 2015 کو برقرار رکھا جائے گا، ہائی کورٹس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق 2015 ء کی درخواستوں کو مسترد کردیا اور قرار دیا کہ پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے۔عدالت نے سپر ٹیکس کے متعلق 2022ء کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں اور فیصلہ دیا کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اگر کسی انفرادی کو رعایت بنتی ہے وہ متعلقہ فورم پر جائے، مضاربہ، میوچل فنڈز، اور بینولیٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔وفاقی آئینی عدالت کے فیصلہ کے مطابق مختلف سیکٹرز سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔قبل ازیں چند گھنٹے پہلے سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا، دورانِ سماعت مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے جواب الجواب دلائل مکمل کیے۔خیال رہے کہ اس فیصلہ سے وفاقی حکومت کو تین سو ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہو گا، اس فیصلے کے بعد سپر ٹیکس سے متعلق قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے اور حکومت کے مؤقف کو آئینی جواز حاصل ہو گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت نے عدالت نے سپر ٹیکس پر ٹیکس
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔