Jasarat News:
2026-06-03@00:05:49 GMT

بورڈ پیس آف یا خطرے کی گھنٹی!

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-03-2
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیامِ امن کے نام پر جس بورڈ آف پیس کو قائم کیا ہے، اس پر دستخط سے قبل ہی انہوں نے اس کے دائرہِ کار کی توسیع کا عندیہ دے کر اپنے عزائم کا اظہار کردیا ہے، برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے بھارت کو بھی دعوت دی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ جن ممالک نے ٹرمپ کی دعوت قبول کی ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 59 ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے ہی موجود تھے۔ امریکی صدر کے بقول یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بورڈ آف پیس پر دنیا کے کئی ممالک بالخصوص یورپی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، کئی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کا متبادل قرار دیتے ہوئے متوازی ادارہ بنانے کے بجائے اقوامِ متحدہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت پر واضح طور پر منقسم نظر آتی ہے، حتیٰ کہ امریکا سے قربت رکھنے والے کئی ممالک نے اس کونسل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے ’’یکطرفہ طرزِ عمل‘‘ یا اقوامِ متحدہ کے کردار پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر اس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ فرانسیسی صدر کے دفتر کے مطابق، ان کے تحفظات اس امکان سے متعلق ہیں کہ کونسل کو ایسے وسیع اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں عبوری مرحلے کے انتظام سے تجاوز کر جائیں گے، جس سے اقوامِ متحدہ کا ڈھانچہ کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ ناروے، سویڈن، آئرلینڈ اور اٹلی سمیت متعدد ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلاشبہ اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے صریحاً منافی ہے۔ اس ڈھانچے میں نہ تو بورڈ کی مدتِ کار کا کوئی تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ اختیار کو صرف غزہ تک محدود رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دیگر خطوں میں بھی لاگو کیا جا سکے گا۔ امن بورڈ کی ساخت کا مکمل محور صدر ٹرمپ کی اپنی ذات معلوم ہوتی ہے، جس سے اس ادارے پر ان کے غیر معمولی ذاتی کنٹرول سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ بورڈ کے آپریشنل اخراجات، تنخواہوں کی ادائیگی اور مستقل رکنیت جیسے معاملات ایک عام تعاون کے طریقہ کار کی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے متعدد حکام نے اشارہ دیا ہے کہ امن کے اس ماڈل کو دیگر جنگ زدہ علاقوں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے متوازی یا شاید اس کے متبادل کے طور پر ایک نیا بین الاقوامی ادارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خود ٹرمپ کے تفصیلی بیانات نے بھی بورڈ کے حقیقی قیام اور قیامِ امن کے ارادوں پر شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ بورڈ بنیادی طور پر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اب اسے ایک ایسے ادارے کی شکل دی جا رہی ہے جو خود اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بورڈ کا چارٹر صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اور وسیع اختیارات تفویض کرتا ہے، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنا، ایجنڈا کنٹرول کرنا، ارکان کا تقرر و برطرفی، بورڈ کو تحلیل کرنا اور یہاں تک کہ اپنا جانشین نامزد کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی کھلی نشاندہی ہے کہ امریکی صدر اقوام متحدہ کے متوازی ایک عالمی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اقوام متحدہ میں کسی بھی معاملے میں چین اور روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے خدشات موجود ہیں، موجودہ پیس آف بورڈ میں مکمل اختیار براہ راست ٹرمپ کے اپنے ہاتھوں میں ہوگا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو امریکا مرکز بنانا چاہتے ہیں تاکہ کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوکر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں طویل بحثوں سے بچ کر دنیا پر من مانے فیصلے مسلط اور اسرائیل کی سلامتی، دفاع اور تحفظ کو یقینی بناسکیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں شامل ہونے بورڈ ا ف پیس کا اظہار ممالک نے متحدہ کے کیا ہے دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت