پارلیمنٹ کو نفاذ کا حق حاصل، آئینی عدالت نے سپر ٹیکس درست قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر+نمائندہ خصوصی) پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے سْپرٹیکس کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات مسترد کر دیئے۔ سْپر ٹیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ انکم پر ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے۔ آئل اینڈ گیس سیکٹر انفرادی طور پر رعایت کے حصول کیلئے متعلقہ ٹیکس کمشنر سے رجوع کرے۔ مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ مختلف سیکٹرز کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔چیف جسٹس امین الدین خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 بی کو آئینی اور درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ تاہم عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق بعض فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم بھی قرار دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ سپر ٹیکس پہلی مرتبہ سن 2015ء میں خیبر پی کے میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ جس کے تحت 300 ملین روپے سے زیادہ سالانہ منافع کمانے والوں پر 3 سے 4 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا۔ تمام ہائیکورٹس نے اس نفاذ کو درست قرار دیا تھا۔ سپرٹیکس درست قرار دینے سے حکومت کو تقریباً 310 ارب روپے ملیں گے۔ مضاربہ،میوچل فنڈز اور بینولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ مختلف سیکٹرز کو الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔ 2022ء میں سْپر ٹیکس کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 150 ملین روپے سالانہ منافع کمانے والوں پر بھی لاگو کیا گیا اور اس کی شرح زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک مقرر کی گئی۔ اس اقدام کو مختلف کاروباری شخصیات، بینکوں اور کمپنیوں نے ہائیکورٹس میں چیلنج کیا۔مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپر ٹیکس کا ماضی سے اطلاق دہرے ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے سْپر ٹیکس کیس پر 17 سماعتیں کیں۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں 2019ء میں دائر ہوا تھا، 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔