نیپرا کو وزارت کے تابع کرنا عوام کے خلاف سازش ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) معروف تاجر رہنما اور اسلام چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے نیپرا کو کنٹرول کرنے کی کوشش عوام کے حقوق کی حفاظت اور بجلی کے شعبے کی نجکاری کے لیے خطرہ ہے۔ حکومت کی جانب سے ریگولیٹرکی خودمختاری ختم کرنے سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کو سبوتاژہو جائے گی اور صارفین کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا جبکہ معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے والی آئی پی پیز کے مفادات کو مزید تقویت ملے گی۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ نیپرا ایکٹ انیس سو ستانوے اور الیکٹرکٹی ایکٹ انیس سو دس میں مجوزہ ترامیم کے نتیجے میں نیپرا براہ راست پاور ڈویژن کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ عالمی مالیاتی اداروں اور نجی شعبے نے بھی ان ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مالی سال دو ہزار چوبیس دو ہزار پچیس کے دوران تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث گردشی قرضہ میں تقریباً تین سو ستانوے ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کی اوسط شرح سترہ اعشاریہ پچپن فیصد رہی جو مقررہ حد گیارہ اعشاریہ تینتالیس فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ نیپرا پہلے ہی کمزور ہے اور حکومت کی من مانیوں کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا اور اسے مزید کمزور کر کے عضو معطل بنایا جا رہا ہے۔نیپرا کو کمزور کرنے سے ٹیرف کے اعلانات میں تاخیر ہوگی، مسابقتی بجلی منڈی کی ترقی رک جائے گی اور اہم اصلاحات متاثر ہوں گی۔ کمزور ریگولیٹر صارفین کے تحفظ اور بجلی کے شعبے میں استحکام یقینی نہیں بنا سکے گا۔انہوں نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ مجوزہ قانونی ترامیم کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے اور صارفین سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائیورنہ معاملات بگڑ سکتے ہیں جس سیبجلی کی قیمت اور عوامی بد اعتمادی میں اضافہ ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔