بجلی‘ گیس کی سبسڈی کوبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کیا جارہا ہے‘ عالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کیا جارہا ہے۔عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں ترقی کے موضوع پر رپورٹ جاری کی جس میں عالمی بینک نے پاکستان میں ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس بیس بڑھانے پر زور دیا جب کہ ریونیو بڑھانے کے لیے آلودگی کی حوصلہ شکنی کی بھی تجویز دے دی۔عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں زیر زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہے، ناقص آبپاشی نظام اور غیر مؤثر زرعی طریقوں سے پانی ضائع ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں جدید آبپاشی منصوبے سے 57 فیصد پانی کی بچت ہوئی جبکہ جدید زرعی منصوبوں سے فصلوں کی پیداوار میں 14 سے 31 فیصد اضافہ ہوا۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کیا جارہا ہے، سبسڈی اصلاحات سے غلط تقسیم، مالی نقصان، سرکلر ڈیٹ میں کمی آئے گی، ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کو سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔عالمی بینک کے مطابق سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کاروباروں کے لیے کلائمٹ رسک فیسلٹی قائم کی جارہی ہے، بی آئی ایس پی کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی بینک سبسڈی کو
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔