Express News:
2026-07-24@10:20:24 GMT

امریکا کے 250 سال 

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا 2026 میں اپنے قیام کے ڈھائی سو برس مکمل کر رہا ہے، تو یہ سنگ میل محض ایک جشن ہی نہیں بلکہ تجدید عزم کا لمحہ بھی ہے۔ امریکا کے ڈھائی سو سالہ یوم آزادی منانے کا مقصد قومی طاقت کی بحالی، جمہوری اداروں کوتقویت دینا ، معاشی ترقی کا فروغ اور حقیقت پسندی اور باہمی احترام کے اصولوں کی پاس دار قیادت کی توثیق کرنا ہے۔ اِسی جذبے کے ساتھ اس تحریر کے ذریعے میں پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یہ یقین دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا آیندہ عشروں میں پاکستان کو ایک اہم شراکت دار کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔

پائیدار جمہوریت

1788 میں منظور ہونے والے امریکی آئین نے آزادی کے تحفظ کی خاطر اور طاقت کے ارتکاز کی روک تھام کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کیا۔ امریکیوں نے صدیوں تک خانہ جنگی سمیت شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے، لیکن ہمارا نظام خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مزید مضبوط ہوتا گیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ جمہوریت مسلسل نگہبانی کا تقاضا کرتی ہے۔خود پاکستان کا اپنا سفر بھی استقامت، اصلاحات اور قومی ترجیحات کے دفاع میں ڈھلتے ہوئے اور اْنھی اصولوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے طے ہوا ہے۔ مضبوط قومیں مضبوط شراکت داریاں اْستوار کرتی ہیں۔ جس طرح امریکا دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اپنے اداروں کا تحفظ کرتا ہے ، ویسے ہی ہم پاکستان کے ساتھ بھی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اشتراک کے خواہاں ہیں۔

شراکت داری کے ذریعے خوشحالی

امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کی طاقت کا سرچشمہ جدت، تجارتی سرگرمیاں اور قانون کی بالادستی ہے۔ امریکی سفارت کاری منصفانہ ، دو طرفہ تجارت اور تزویراتی شراکت داریوں پر زور دیتی ہے جو رسد و ترسیل کے سلسلوں کو مضبوط بنائے، معاشی استقامت کو فروغ دے اور امریکیوں اور شراکت داروں کے لیے یکساں مواقع تخلیق کرے۔ یہ ترجیحات فریڈم 250 کے ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں جو امریکا کے قیام کے بنیادی اصولوں کو خوشحالی، جدت اور پائیدار شراکت داریوں پر مبنی مستقبل کے لیے کوشاں خارجہ پالیسی سے جوڑتے ہیں۔

جنوری 2025 سے، امریکا اور پاکستان کے مابین معاشی تعاون میں نمایاں طور پر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے نتیجہ خیز شراکت داری کی توثیق ہوئی۔ امریکی مالیاتی سہولیات کے تعاون سے امریکی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان نایاب معدنیات، کان کْنی اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمت عملی کے ساتھ کی جانے والی سرمایہ کاری کس طرح دونوں قوموں کے لیے روزگار کے مواقع تخلیق اور خوشحالی و استقامت کو فروغ دیتی ہے۔

تحفظ اور استحکام

سلامتی و تحفظ خوشحالی کی بنیاد ہے۔ امریکا خطرات سے نمٹنے، علاقائی استحکام کے فروغ اور شراکت داروں کو درپیش مشترکہ مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاونت کے لیے مضبوط صلاحیتیں برقرار رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ طاقت کو قیام امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارا مقصد تصادم نہیں بلکہ استحکام یقینی بنانا ہے اور ہماری طاقت ہی امن کی ضامن ہے‘‘ ۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ امریکا اور پاکستان کا مشترکہ مفاد ہے۔ ہمارے کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ (انسداد دہشت گردی مذاکرات) میں خود مختاری کا احترام اور علاقائی استحکام کا فروغ دیتے ہوئے اس نوعیت کے خطرات سے نبرد آزما ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون ہمارے شہریوں کی حفاظت کو مزید مضبوط اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔

قانونی ہجرت اور مواقع

امریکی قوم کی تشکیل امیگریشن کی مرہونِ منّت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم قانون کی پاس داری کرنے والی قوم بھی ہیں۔ امریکی انتظامیہ سرحدوں کی حفاظت، امیگریشن قوانین کے نفاذ اور امریکا کے قومی مفادات کی تکمیل کے حامل ایک قانونی امیگریشن نظام پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پْرعزم ہے۔ جیسا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھاکہ ’’ویزا ایک سہولت ہے استحقاق نہیں‘‘۔

پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد تارکین وطن نے طب، سائنس، تجارت اور معاشرتی زندگی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے امریکی معاشرے کو مضبوط بنایا اور باہمی افہام تفہیم کو فروغ دیا ہے۔ یہ متوازن سوچ اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ قانونی طور پر کی جانے والی ہجرت مواقع، استحکام اور دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں معاون ہوتی ہے۔

مستقبل پر مرکوز شراکت

امریکا اپنے قیام کی تیسری صدی میں اپنی اقدار پر مکمل اعتماد اور اپنے غیر مبہم مقاصد کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر خود مختاری، طاقت اور مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے مواقع پر مبنی شراکت داری تشکیل دے رہے ہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اور معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کیسے باہمی احترام، ٹھوس نتائج اور آپس میں ہم آہنگ معاشی وسیکیورٹی مفادات تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

پاکستان کی استقامت، جدت اور تزویراتی اہمیت طویل مدتی پائیدار شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ جشنِ آزادی کے اس تاریخی موقع پر امریکا، پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط، پْروقار اور مستقبل پر مرکوز تعلقات کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید کر رہا ہے، ایک ایسا تعلق جس میں امریکی ترجیحات کی عکاسی ہو، اْس میں امریکا کے بانیوں کانصب العین اور ورثہ سمایا ہوا ہو، اور جوآیندہ ڈھائی سو سال تک تحفظ، خوشحالی اور قائدانہ کردارکی فراہمی کو تسلسل دیتا رہے۔

(مضمون نگار ناظم الامور، امریکی سفارتخانہ، امریکی مشن برائے پاکستان ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور پاکستان پاکستان کے شراکت داری امریکا کے امریکا ا کے ساتھ کو فروغ کے لیے

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ