Express News:
2026-06-02@22:42:36 GMT

امریکا کے 250 سال 

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا 2026 میں اپنے قیام کے ڈھائی سو برس مکمل کر رہا ہے، تو یہ سنگ میل محض ایک جشن ہی نہیں بلکہ تجدید عزم کا لمحہ بھی ہے۔ امریکا کے ڈھائی سو سالہ یوم آزادی منانے کا مقصد قومی طاقت کی بحالی، جمہوری اداروں کوتقویت دینا ، معاشی ترقی کا فروغ اور حقیقت پسندی اور باہمی احترام کے اصولوں کی پاس دار قیادت کی توثیق کرنا ہے۔ اِسی جذبے کے ساتھ اس تحریر کے ذریعے میں پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یہ یقین دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا آیندہ عشروں میں پاکستان کو ایک اہم شراکت دار کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔

پائیدار جمہوریت

1788 میں منظور ہونے والے امریکی آئین نے آزادی کے تحفظ کی خاطر اور طاقت کے ارتکاز کی روک تھام کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کیا۔ امریکیوں نے صدیوں تک خانہ جنگی سمیت شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے، لیکن ہمارا نظام خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مزید مضبوط ہوتا گیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ جمہوریت مسلسل نگہبانی کا تقاضا کرتی ہے۔خود پاکستان کا اپنا سفر بھی استقامت، اصلاحات اور قومی ترجیحات کے دفاع میں ڈھلتے ہوئے اور اْنھی اصولوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے طے ہوا ہے۔ مضبوط قومیں مضبوط شراکت داریاں اْستوار کرتی ہیں۔ جس طرح امریکا دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اپنے اداروں کا تحفظ کرتا ہے ، ویسے ہی ہم پاکستان کے ساتھ بھی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اشتراک کے خواہاں ہیں۔

شراکت داری کے ذریعے خوشحالی

امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کی طاقت کا سرچشمہ جدت، تجارتی سرگرمیاں اور قانون کی بالادستی ہے۔ امریکی سفارت کاری منصفانہ ، دو طرفہ تجارت اور تزویراتی شراکت داریوں پر زور دیتی ہے جو رسد و ترسیل کے سلسلوں کو مضبوط بنائے، معاشی استقامت کو فروغ دے اور امریکیوں اور شراکت داروں کے لیے یکساں مواقع تخلیق کرے۔ یہ ترجیحات فریڈم 250 کے ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں جو امریکا کے قیام کے بنیادی اصولوں کو خوشحالی، جدت اور پائیدار شراکت داریوں پر مبنی مستقبل کے لیے کوشاں خارجہ پالیسی سے جوڑتے ہیں۔

جنوری 2025 سے، امریکا اور پاکستان کے مابین معاشی تعاون میں نمایاں طور پر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے نتیجہ خیز شراکت داری کی توثیق ہوئی۔ امریکی مالیاتی سہولیات کے تعاون سے امریکی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان نایاب معدنیات، کان کْنی اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمت عملی کے ساتھ کی جانے والی سرمایہ کاری کس طرح دونوں قوموں کے لیے روزگار کے مواقع تخلیق اور خوشحالی و استقامت کو فروغ دیتی ہے۔

تحفظ اور استحکام

سلامتی و تحفظ خوشحالی کی بنیاد ہے۔ امریکا خطرات سے نمٹنے، علاقائی استحکام کے فروغ اور شراکت داروں کو درپیش مشترکہ مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاونت کے لیے مضبوط صلاحیتیں برقرار رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ طاقت کو قیام امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارا مقصد تصادم نہیں بلکہ استحکام یقینی بنانا ہے اور ہماری طاقت ہی امن کی ضامن ہے‘‘ ۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ امریکا اور پاکستان کا مشترکہ مفاد ہے۔ ہمارے کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ (انسداد دہشت گردی مذاکرات) میں خود مختاری کا احترام اور علاقائی استحکام کا فروغ دیتے ہوئے اس نوعیت کے خطرات سے نبرد آزما ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون ہمارے شہریوں کی حفاظت کو مزید مضبوط اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔

قانونی ہجرت اور مواقع

امریکی قوم کی تشکیل امیگریشن کی مرہونِ منّت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم قانون کی پاس داری کرنے والی قوم بھی ہیں۔ امریکی انتظامیہ سرحدوں کی حفاظت، امیگریشن قوانین کے نفاذ اور امریکا کے قومی مفادات کی تکمیل کے حامل ایک قانونی امیگریشن نظام پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پْرعزم ہے۔ جیسا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھاکہ ’’ویزا ایک سہولت ہے استحقاق نہیں‘‘۔

پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد تارکین وطن نے طب، سائنس، تجارت اور معاشرتی زندگی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے امریکی معاشرے کو مضبوط بنایا اور باہمی افہام تفہیم کو فروغ دیا ہے۔ یہ متوازن سوچ اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ قانونی طور پر کی جانے والی ہجرت مواقع، استحکام اور دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں معاون ہوتی ہے۔

مستقبل پر مرکوز شراکت

امریکا اپنے قیام کی تیسری صدی میں اپنی اقدار پر مکمل اعتماد اور اپنے غیر مبہم مقاصد کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر خود مختاری، طاقت اور مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے مواقع پر مبنی شراکت داری تشکیل دے رہے ہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اور معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کیسے باہمی احترام، ٹھوس نتائج اور آپس میں ہم آہنگ معاشی وسیکیورٹی مفادات تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

پاکستان کی استقامت، جدت اور تزویراتی اہمیت طویل مدتی پائیدار شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ جشنِ آزادی کے اس تاریخی موقع پر امریکا، پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط، پْروقار اور مستقبل پر مرکوز تعلقات کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید کر رہا ہے، ایک ایسا تعلق جس میں امریکی ترجیحات کی عکاسی ہو، اْس میں امریکا کے بانیوں کانصب العین اور ورثہ سمایا ہوا ہو، اور جوآیندہ ڈھائی سو سال تک تحفظ، خوشحالی اور قائدانہ کردارکی فراہمی کو تسلسل دیتا رہے۔

(مضمون نگار ناظم الامور، امریکی سفارتخانہ، امریکی مشن برائے پاکستان ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور پاکستان پاکستان کے شراکت داری امریکا کے امریکا ا کے ساتھ کو فروغ کے لیے

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان