جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا 2026 میں اپنے قیام کے ڈھائی سو برس مکمل کر رہا ہے، تو یہ سنگ میل محض ایک جشن ہی نہیں بلکہ تجدید عزم کا لمحہ بھی ہے۔ امریکا کے ڈھائی سو سالہ یوم آزادی منانے کا مقصد قومی طاقت کی بحالی، جمہوری اداروں کوتقویت دینا ، معاشی ترقی کا فروغ اور حقیقت پسندی اور باہمی احترام کے اصولوں کی پاس دار قیادت کی توثیق کرنا ہے۔ اِسی جذبے کے ساتھ اس تحریر کے ذریعے میں پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یہ یقین دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا آیندہ عشروں میں پاکستان کو ایک اہم شراکت دار کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔
پائیدار جمہوریت
1788 میں منظور ہونے والے امریکی آئین نے آزادی کے تحفظ کی خاطر اور طاقت کے ارتکاز کی روک تھام کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کیا۔ امریکیوں نے صدیوں تک خانہ جنگی سمیت شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے، لیکن ہمارا نظام خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مزید مضبوط ہوتا گیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ جمہوریت مسلسل نگہبانی کا تقاضا کرتی ہے۔خود پاکستان کا اپنا سفر بھی استقامت، اصلاحات اور قومی ترجیحات کے دفاع میں ڈھلتے ہوئے اور اْنھی اصولوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے طے ہوا ہے۔ مضبوط قومیں مضبوط شراکت داریاں اْستوار کرتی ہیں۔ جس طرح امریکا دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اپنے اداروں کا تحفظ کرتا ہے ، ویسے ہی ہم پاکستان کے ساتھ بھی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اشتراک کے خواہاں ہیں۔
شراکت داری کے ذریعے خوشحالی
امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کی طاقت کا سرچشمہ جدت، تجارتی سرگرمیاں اور قانون کی بالادستی ہے۔ امریکی سفارت کاری منصفانہ ، دو طرفہ تجارت اور تزویراتی شراکت داریوں پر زور دیتی ہے جو رسد و ترسیل کے سلسلوں کو مضبوط بنائے، معاشی استقامت کو فروغ دے اور امریکیوں اور شراکت داروں کے لیے یکساں مواقع تخلیق کرے۔ یہ ترجیحات فریڈم 250 کے ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں جو امریکا کے قیام کے بنیادی اصولوں کو خوشحالی، جدت اور پائیدار شراکت داریوں پر مبنی مستقبل کے لیے کوشاں خارجہ پالیسی سے جوڑتے ہیں۔
جنوری 2025 سے، امریکا اور پاکستان کے مابین معاشی تعاون میں نمایاں طور پر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے نتیجہ خیز شراکت داری کی توثیق ہوئی۔ امریکی مالیاتی سہولیات کے تعاون سے امریکی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان نایاب معدنیات، کان کْنی اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمت عملی کے ساتھ کی جانے والی سرمایہ کاری کس طرح دونوں قوموں کے لیے روزگار کے مواقع تخلیق اور خوشحالی و استقامت کو فروغ دیتی ہے۔
تحفظ اور استحکام
سلامتی و تحفظ خوشحالی کی بنیاد ہے۔ امریکا خطرات سے نمٹنے، علاقائی استحکام کے فروغ اور شراکت داروں کو درپیش مشترکہ مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاونت کے لیے مضبوط صلاحیتیں برقرار رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ طاقت کو قیام امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمارا مقصد تصادم نہیں بلکہ استحکام یقینی بنانا ہے اور ہماری طاقت ہی امن کی ضامن ہے‘‘ ۔
دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ امریکا اور پاکستان کا مشترکہ مفاد ہے۔ ہمارے کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ (انسداد دہشت گردی مذاکرات) میں خود مختاری کا احترام اور علاقائی استحکام کا فروغ دیتے ہوئے اس نوعیت کے خطرات سے نبرد آزما ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون ہمارے شہریوں کی حفاظت کو مزید مضبوط اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔
قانونی ہجرت اور مواقع
امریکی قوم کی تشکیل امیگریشن کی مرہونِ منّت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم قانون کی پاس داری کرنے والی قوم بھی ہیں۔ امریکی انتظامیہ سرحدوں کی حفاظت، امیگریشن قوانین کے نفاذ اور امریکا کے قومی مفادات کی تکمیل کے حامل ایک قانونی امیگریشن نظام پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پْرعزم ہے۔ جیسا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھاکہ ’’ویزا ایک سہولت ہے استحقاق نہیں‘‘۔
پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد تارکین وطن نے طب، سائنس، تجارت اور معاشرتی زندگی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے امریکی معاشرے کو مضبوط بنایا اور باہمی افہام تفہیم کو فروغ دیا ہے۔ یہ متوازن سوچ اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ قانونی طور پر کی جانے والی ہجرت مواقع، استحکام اور دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں معاون ہوتی ہے۔
مستقبل پر مرکوز شراکت
امریکا اپنے قیام کی تیسری صدی میں اپنی اقدار پر مکمل اعتماد اور اپنے غیر مبہم مقاصد کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر خود مختاری، طاقت اور مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے مواقع پر مبنی شراکت داری تشکیل دے رہے ہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اور معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کیسے باہمی احترام، ٹھوس نتائج اور آپس میں ہم آہنگ معاشی وسیکیورٹی مفادات تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
پاکستان کی استقامت، جدت اور تزویراتی اہمیت طویل مدتی پائیدار شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ جشنِ آزادی کے اس تاریخی موقع پر امریکا، پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط، پْروقار اور مستقبل پر مرکوز تعلقات کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید کر رہا ہے، ایک ایسا تعلق جس میں امریکی ترجیحات کی عکاسی ہو، اْس میں امریکا کے بانیوں کانصب العین اور ورثہ سمایا ہوا ہو، اور جوآیندہ ڈھائی سو سال تک تحفظ، خوشحالی اور قائدانہ کردارکی فراہمی کو تسلسل دیتا رہے۔
(مضمون نگار ناظم الامور، امریکی سفارتخانہ، امریکی مشن برائے پاکستان ہیں)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور پاکستان پاکستان کے شراکت داری امریکا کے امریکا ا کے ساتھ کو فروغ کے لیے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار