روس، چین متحد ہوگئے: ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
روس، چین متحد ہوگئے: ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
ماسکو: (آئی پی ایس) روس اور چین کی قیادت نے دفاعی اتحاد کے تحت ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر دفاع اور چینی ہم منصب کے درمیان ویڈیو لنک پر رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے عالمی سکیورٹی کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو عالمی سکیورٹی صورتحال کا تجزیہ کرتے رہنا چاہیے، عالمی ماحول میں تیز تبدیلیوں کے پیش نظر مشترکہ جوابی اقدامات ضروری ہیں۔
بیلوسوف نے کہا کہ مستقل فوجی تعاون اور تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کیلئے ناگزیر ہے، خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کیلئے ہم آہنگی ضروری ہے۔
دوسری طرف چینی وزیر دفاع ڈونگ جون نے روسی ہم منصب کے مؤقف کی مکمل تائید کی، چینی وزیر دفاع نے سٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط بنانے اور ہنگامی صورتحال میں مشترکہ ردعمل دینے پر زور دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران نے حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا: نیتن یاہو کی وارننگ ایران نے حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا: نیتن یاہو کی وارننگ امریکا میں برفباری نے قہر ڈھا دیا؛ 22 کروڑ افراد خون جما دینے والی سردی کا شکار خیبرپختونخوا حکومت نے 804 نمبر پلیٹ کی نیلامی کیوں روک دی؟ وجہ سامنے آگئی لوگ ازخود نہیں جارہے، آفریدی قوم کے بڑوں کو مجبور کیاگیا کہ وادی تیراہ خالی کردیں، سہیل آفریدی ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہو گئی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ اورکب مذاکرات کرنا ہیں: بیرسٹرگوہرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔